Express News:
2026-06-03@01:12:31 GMT

متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورۂ پاکستان

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے جمعہ کو پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ کیا۔ ان کا ایک روزہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام ودیرینہ دوستی کا مظہر ہے۔

ہوائی اڈے پر وزیراعظم محمد شہباز شریف ، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزراء نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔

معزز مہمان طیارے سے باہر آئے تو وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ان سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا، شیخ محمد بن زاید النہیان اور شہباز شریف کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ مہمان صدر کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ 

متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورہ وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے حالات کے تناظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس دورے سے اس سارے ریجن میں کئی پیغامات گئے ہیں۔

افغانستان کی صورت حال کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ ایران اور یمن کے معاملات بھی خاصی اہمیت کے حامل ہیں جب کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے حوالے سے بھی معاملات خاصے پیچیدہ اور گھمبیر ہیں۔

متحدہ عرب امارات خلیج کا ایسا ملک ہے جس کے ان سارے ممالک اور خطوں میں گہرے مفادات بھی ہیں۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو ان کے دورے کی اہمیت کو سمجھنا مشکل کام نہیں ہے۔

بلاشبہ یہ دورہ ایک روز کے لیے ہے لیکن اس سے جو پیغامات ملے ہیں، وہ خاصے اہم ہیں۔ پہلا پیغام تو یہ ہے کہ یو اے ای کے صدر نے خود یہاں آ کر ظاہر کیا ہے کہ یو اے ای اور پاکستان کے درمیان گہرے دوستانہ اور تجارتی تعلقات ہیں جب کہ اسٹرٹیجک معاملات میں بھی دونوں ممالک ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔

فلسطین کے تنازعے میں بھی دونوں ملکوں کا مؤقف ایک جیسا ہے۔ یو اے ای کے صدر کا استقبال بھی غیرمعمولی تھا۔ جیسے ہی شیخ محمد بن زاید النہیان کا طیارہ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو جے ایف 17تھنڈر طیاروں نے انھیں سلامی دی۔

نور خان ایئر بیس پر باضابطہ استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا، دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔

دورے کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر نے وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات کے علاوہ عالمی و علاقائی امور پر بھی بات چیت کی گئی۔

شیخ محمد بن زاید النہیان کے پاکستان کے پہلے سرکاری دورے کے موقع پر حکومت پاکستان کی جانب سے خصوصی استقبالی نغمہ جاری کیا گیا۔

نغمے کے بول اہلاً و سہلاً، مرحبا پر مشتمل ہیں۔ اس نغمے کے ذریعے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے برادرانہ تعلقات، باہمی احترام اور تعاون کے مضبوط رشتے کو اجاگر کیا گیا ہے۔
یوں دیکھا جائے تو یہ غیرمعمولی استقبال بہت سے پیغامات اور اشاروں کا مرقع ہے۔

یو اے ای کے صدر کے اس دورے پر صحافتی حلقے مختلف قسم کی آراء ظاہر کر رہے ہیں تاہم سب کا اس معاملے پر اتفاق ہے کہ مستقبل میں پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔

دورے کے دوران یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور وزیراعظم شہباز شریف کے مابین تفصیلی ملاقات میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے معاشی تعاون، سرمایہ کاری، توانائی انفرااسٹرکچر، آئی ٹی اور عوامی روابط کے فروغ سمیت مختلف شعبوں میں روابط کو مزید گہرا کرنے اور دوطرفہ تجارت بڑھانے پر اتفاق کیا۔

ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور پر قریبی رابطہ و تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کی تجدید کی۔

متحدہ عرب امارات ایسا ملک ہے جہاں لاکھوں پاکستانی روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ پاکستان کے لوگوں نے وہاں بھاری سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی پاکستان میں کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔

رحیم یار خان میں تو شاہی خاندان کی رہائش گاہیں بھی موجود ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت انتہائی غیرمعمولی ہے۔ شیخ محمد بن زاید النہیان کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے مابین گہرے برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور اسٹرٹیجک شراکت داری کو نئی جہت دے گا۔

جمعہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ نہایت خوشگوار اور تعمیری بات چیت ہوئی جس میں دو طرفہ تعاون کے مختلف شعبوں کے علاوہ امن اور خوشحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان کو متحدہ عرب امارات کے ساتھ دیرینہ، مضبوط اور برادرانہ تعلقات پر فخر ہے۔ اپنے عزیز بھائی شیخ محمد بن زاید النہیان کا پاکستان کے سرکاری دورے پر استقبال کرنا میرے لیے باعث مسرت تھا جو نئے سال کی آمد کے موقع پر خوشیوں اور گرمجوشی میں اضافے کا باعث بنا۔

میرے عزیز بھائی شیخ محمد بن زاید النہیان کی سرپرستی میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے ایک روزہ دورے سے واپسی پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اردو، انگریزی اور عربی زبان میں جاری بیان میں یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النیہان نے کہا کہ آج اسلام آباد میں وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات میں متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان تعاون کے مختلف پہلوؤں بالخصوص اقتصادی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی شعبوں میں تعاون اور اسے مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا تاکہ دونوں ممالک کے عوام کے لیے ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔

متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے تعلقات تاریخی نوعیت کے حامل ہیں اور امارات دونوں ممالک کے درمیان تعمیری تعاون کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ انھوں نے دورہ پاکستان کی تصاویر بھی شیئرکیں۔

پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کی وجہ سے خلیجی اور عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں ماضی کی نسبت بہت زیادہ بہتری آئی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات غیرمعمولی نوعیت کے ہیں۔

یو اے ای کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ کئی پاکستانی سرمایہ کاروں کا یہ دوسرا گھر ہے جب کہ یو اے ای کے سرمایہ کار پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہیں۔ حالیہ دورے سے بھی واضح ہوا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات میں مزید اضافہ ہو گا۔

پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں جب کہ متحدہ عرب امارات کے پاس سرمایہ وافر ہے۔ اسی طرح پاکستان کے پاس بہترین ہنرمند موجود ہیں، معاشیات کے ماہرین موجود ہیں، سول انجینئرز موجود ہیں اور دیگر شعبوں کے ہنرمند موجود ہیں۔

پاکستان کے ہنرمندوں نے متحدہ عرب امارات کو جدید بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور وہ ابھی تک اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یو اے ای کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اسے مزید ہنرمندوں کی ضرورت ہے جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز اور لیبر شامل ہیں۔

پاکستان کے لیے زرمبادلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر پاکستان کے ہنرمند یو اے ای میں جاتے ہیں تو وہاں سے بھاری مقدار میں زرمبادلہ پاکستان آئے گا۔ اس کے علاوہ اسٹرٹیجک معاملات میں بھی یو اے ای پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

حالیہ دہشت گردی کے معاملات میں بھی یو اے ای ایک اہم پلیر کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت زیادہ سے زیادہ دوستوں کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کو شمال مغربی سرحد کی جانب سے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

افغانستان کی صورت حال بہت زیادہ پیچیدہ اور گھمبیر ہو چکی ہے۔ افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی نے وسط ایشیا سے لے کر مڈل ایسٹ تک کے لیے خطرے پیدا کر دیے ہیں۔ تاجکستان براہ راست دہشت گردوں کا شکار ہو رہا ہے۔

یہ دہشت گردی افغانستان کی سرزمین سے ہو رہی ہے۔ ریجنل ممالک افغانستان کی طالبان رجیم کو مسلسل آگاہ کر رہے ہیں کہ ان کے ملک میں دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ ہیں اور وہ آزادانہ طور پر نقل وحرکت کر رہے ہیں اور یہاں سے ہمسایہ ممالک میں جا کر دہشت گردی کی وارداتیں کر رہے ہیں۔

یہ صورت حال یو اے ای کی قیادت کی نظر میں بھی ہے۔ ان حالات کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو متحدہ عرب امارات کے صدر کے دورۂ پاکستان کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شیخ محمد بن زاید النہیان متحدہ عرب امارات کے صدر کے صدر شیخ محمد بن زاید برادرانہ تعلقات یو اے ای کے صدر دونوں ممالک کے افغانستان کی دونوں ملکوں سرمایہ کاری پاکستان اور میں پاکستان پاکستان کو پاکستان کی شہباز شریف پاکستان کے کر رہے ہیں کے درمیان پاکستان ا موجود ہیں کیا گیا کو مزید کے ساتھ ہیں اور میں بھی کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی