پاکستانی معاشرے میں سوئے ظن کیوں عام ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستانی معاشرے کو دنیا کا بہترین معاشرہ بننا تھا۔ اس لیے کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا۔ چنانچہ پاکستانی ریاست اور معاشرے دونوں کا Ideal یا تو ’’عہد ِ رسالت‘‘ کو بننا تھا یا ’’خلافت ِ راشدہ‘‘ کو۔ چنانچہ پاکستان کی سیاست کو بے مثال ہونا تھا۔ پاکستان کی معاشرت کو لاجواب ہونا تھا۔ پاکستان کی معیشت کو بہترین ہونا تھا۔ پاکستان کی اخلاقیات کو لاثانی ہونا تھا۔ مگر بدقسمتی سے 78 سال میں ایسا نہ ہوسکا۔ اس کے برعکس ہماری ہر چیز بیمار ہے۔ ہماری سیاست، ہماری معاشرت، ہماری تعلیم، ہماری تہذیب، ہماری اخلاقیات سب معمولی درجے کی ہیں۔ بہترین معاشروں کی پہچان یہ ہے کہ ان میں ’’حسن ِ ظن‘‘ غالب ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بیمار معاشروں میں ’’سوئے ظن‘‘ کی فراوانی ہوتی ہے۔ چونکہ پاکستانی معاشرہ بیمار معاشرہ ہے۔ اس لیے اس میں ہر طرف سوئے ظن پھیلا ہوا ہے۔ ہمارے ممدوح خورشید ندیم نے بھی اپنے حالیہ کالم میں اس مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔ لیکن خورشید ندیم نے صرف سوئے ظن کی نشاندہی نہیں کی بلکہ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ سوئے ظن ٹھیک نہیں۔ اس سلسلے میں خورشید ندیم نے کیا لکھا ہے انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے۔ لکھتے ہیں۔
’’ہر امیر آدمی لازم ہے کہ بددیانت ہوگا۔ یہاں دیانت داری کے ساتھ پیسہ کمانا ممکن نہیں‘‘۔
’’ہر صاحب ِ منصب لازم ہے کہ کسی ناجائز طریقے سے اس مقام تک پہنچا ہو گا۔ پاکستان میں ممکن نہیں کہ کسی کو میرٹ پر منصب ملے‘‘۔
’’کسی صاحب ِ حیثیت کی تعریف لازم ہے کہ ناجائز مراعات کے لیے کی گئی ہو گی۔ بلامقصد کون کسی کی مدح کرتا ہے‘‘۔
اَن گنت مغالطے ہمیں گھیرے رکھتے ہیں جو بالآخر ہماری سماجی نفسیات کو برباد کر دیتے ہیں۔ میں نے تین کا ذکر کیا ہے۔ یہ اس بات کا اعلانِ عام ہے کہ ہمارے سماج سے حسن ِ ظن ختم ہو گیا ہے۔ کسی کو قیمتی گاڑی میں دیکھ کر ہمارا پہلا تبصرہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ناجائز مال سے خریدی گئی ہے۔ ہم کسی کو ایک منصب پر فائز دیکھتے ہیں تو پہلا خیال یہ آتا ہے کہ اسے کسی خدمت کے صلے میں نوازا گیا ہے‘ ورنہ اس میں یہ اہلیت کہاں تھی۔ اسی طرح ایک محتاط آدمی کسی صاحب ِ منصب کی خوبی کے بیان میں بخل سے کام لیتا ہے کہ اس کو خوشامد سے تعبیر کیا جائے گا۔ لوگ خیال کریں گے کہ اس کو منصب بردار سے کوئی کام آن پڑا ہے۔
اس رویے کا ایک سبب ہے اور وہ ہے سوئے ظن کا غلبہ۔ اگر ہم بدگمانی کی عینک اُتار کر دیکھیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ بہت سے امرا وہ ہیں جنہوں نے جائز ذرائع سے پیسے جمع کیے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے کاروبار میں بروقت قدم رکھا جو نسبتاً زیادہ منافع بخش تھا اور ان کے وارے نیارے ہو گئے۔ ایسا ہی ایک کاروبار زمین اور جائداد کی خریدو فروخت کا ہے۔ تین چار برس پہلے تک‘ جس زمین کی قیمت کوڑیوں میں تھی‘ وہ لاکھوں میں ہو چکی تھی۔ جنہوں نے صحیح وقت پر اس کاروبار کا انتخاب کیا‘ ان کے دن پھر گئے۔ اس کی بے شمار مثالیں ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ لوگوں نے سستی زمین خریدی‘ اسے ایک منظم ہائوسنگ سوسائٹی میں بدلا اور بہت پیسے کمائے۔
ایسا ہی ایک کاروبار کھانے پینے سے متعلق ہے۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پلائو بیچنے والی ایک دکان‘ دیکھتے ہی دیکھتے متعدد ریستورانوں کی ایک لڑی بن گئی۔ دو تین ہفتے پہلے میں نے خبر پڑھی کہ گوجر خان میں اس کی ایک نئی شاخ کا افتتاح ہوا تو پہلے دن ہی 51 لاکھ کی بکری ہوئی۔ گاہک قطار بنائے کھڑے تھے مگر کھانا ختم ہو چکا تھا۔ ان کی شہرت کبھی بری نہیں رہی۔ میں نے لوگوں سے سنا کہ یہ انفاق کرنے والوں میں سے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو گردو نواح میں ایسی بہت سی مثالیں تلاش کر سکتے ہیں کہ لوگوں نے محنت کی اور درست وقت پر صحیح فیصلے کیے تو ان کے کاروبار کو غیرمعمولی فروغ ملا۔ ایک مثال میڈیا بھی ہے۔ الیکٹرونک میڈیا کا آنا تو ابلاغ کی دنیا میں ایک انقلاب تھا۔ صحافت اب سو فی صد کاروبار ہے اور ایک اچھا اینکر اس کاروبارکا روحِ رواں ہے۔ نتیجتاً اسے اتنی تنخواہ ملنے لگی کہ کسی صحافی نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا۔ اس کا ناگزیر نتیجہ آسودہ زندگی ہے۔ یہی معاملہ بعض سروسز کا بھی ہے۔ جیسے ڈاکٹر‘ جیسے وکلا‘ یہ چند مثالیں ہیں جو دلیل ہیں کہ جائز طریقے سے بھی پیسہ کمایا جا سکتا ہے۔ ہر وہ آمدن جائز ہے جو قانون کے مطابق اور اس کی نظر میں ہے‘‘۔ (روزنامہ دنیا، 20 دسمبر 2025ء)
خورشید ندیم نے مسئلے پر تفصیلی کالم تو لکھ دیا مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاشرے میں سوئے ظن عام ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟ دیکھا جائے تو اس سوئے ظن کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ معاشرے کا کوئی بھی طبقہ وہ کام نہیں کررہا جس کے لیے وہ برپا ہوا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال علما و صوفیا کا طبقہ ہے۔ مسلم معاشرے میں علما و صوفیا معاشرے کی روح ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے کا مثالیہ یا Ideal ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے میں علم تخلیق بھی کرتے ہیں اور اسے فروغ بھی دیتے ہیں۔ وہ معاشرے کی روحانی اور اخلاقی تربیت بھی کرتے ہیں۔ مگر اقبال نے ایک صدی پہلے علما اور صوفیا کے بارے میں کہا تھا۔
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک
نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ
ہمارے زمانے تک آتے آتے اس حوالے سے صورت حال اور بھی ابتر ہوگئی ہے۔ بلاشبہ ہمارے مدارس ہماری علمی روایت کی ’’ترسیل‘‘ کا کام تو بخوبی کررہے ہیں اور اس حوالے سے ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے مگر وہ اس روایت کو آگے بڑھانے سے قاصر ہیں۔ ہمیں مدارس کے اساتذہ اور طلبہ سے ملتے ہوئے 40 سال ہوگئے۔ ہم جب بھی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ سے ملتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کے تخصّص کے طلبہ میں سے کسی نے قرآن و حدیث پر کوئی تخلیقی و تحقیقی کام کیا ہے؟ سیرت طیبہ پر کوئی مقالہ یا کتاب تحریر کی ہے؟ کسی فقہی مسئلے پر کوئی رسالہ یا کتاب تحریر کی ہے؟ بدقسمتی سے ہمیں ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ البتہ ہمارا مذہبی ذہن ’’مسلک پرستی‘‘ اور ’’فرقہ بندی‘‘ میں طاق ہے۔ لیکن اس دائرے میں بھی کوئی تخلیقی و تحقیقی کام نہیں کررہا۔ مولانا اشرف علی تھانوی دیوبندی مکتبہ فکر کے سب سے بڑے عالم ہیں مگر افسوس دیوبندی مکتبہ فکر میں ان کی فکر کو آگے بڑھانے والا کوئی نہیں۔ اعلیٰ حضرت بریلوی مکتبہ فکر کے سب سے بڑے عالم ہیں مگر ان کی فکر کو آگے بڑھانے والا بھی کوئی نہیں۔ مولانا مودودی بیسویں صدی میں پوری امت کے امام تھے مگر جماعت اسلامی میں ان کی فکر کو آگے بڑھانے والا بھی کوئی نہیں۔ پروفیسر خورشید اور خرم جاہ مراد نے اپنی تحریروں میں یا تو مولانا کو دہرایا ہے یا Distort کیا ہے۔ یہ قوم کی بدقسمتی ہے کہ علما اور مشائخ کی اکثریت ہمیشہ فوجی آمروں کی حامی بن کر کھڑی ہوجاتی ہے۔ کبھی وہ جنرل ضیا الحق کے حامی تھی آج وہ جنرل عاصم منیر کی حامی ہے۔
ہم نے اسکول اور یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے چنانچہ ان کا حال ’’مشاہدے‘‘ اور ’’تجربے‘‘ کی سطح پر جانتے ہیں۔ ہم اسکول، کالج اور یونیورسٹی تینوں مقامات پر رہنمائی کرنے والے اساتذہ کو تلاش کرتے رہے اور تلاش نہ کرسکے۔ ہمارا میٹرک کا رزلٹ آیا تو ہم نے 69.
ساری دنیا میں جرنیل ریاست کے ’’محافظ‘‘ ہوتے ہیں مگر پاکستان میں وہ ریاست کے ’’مالک‘‘ بن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ حالانکہ ریاست کی تباہی میں جرنیلوں کا کردار سیاست دانوں سے بہت زیادہ ہے۔ تاریخ کے ریکارڈ پر یہ بات موجود ہے کہ امریکی جرنیلوں نے امریکا کو دوسری جنگ عظیم جیت کر دی مگر انہوں نے اس بنیاد پر کبھی یہ نہیں کہا کہ ہمیں ریاست کا ’’مالک‘‘ سمجھا جائے۔ نہ انہوں نے کبھی امریکا کی سیاست اور ریاست پر قبضہ کرکے اس پر مارشل لا مسلط کیا۔ 1971ء میں بھارتی جرنیلوں نے پاکستان کو دولخت کرکے مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنادیا۔ انہوں نے پاکستان کے 90 ہزار فوجیوں سے ہتھیار ڈلوا دیے۔ یہ اتنی بڑی کامیابی تھی کہ اس بنیاد پر بھارتی جرنیل ہندوستان پر مارشل لا مسلط کرکے ہندوستان کے مالک بن جاتے تو بات سمجھ میں آتی مگر بھارتی جرنیل 1971ء میں بھی سول حکومت کے ماتحت اور بھارتی آئین کے پابند رہے۔
اس کے برعکس پاکستانی جرنیلوں نے آدھا پاکستان گنوایا۔ قوم پر 90 ہزار فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے کی ذلت مسلط کی مگر اس کے باوجود بھی وہ پاکستان کی ریاست و سیاست پر قابض ہیں۔ چنانچہ پاکستانی جرنیلوں کے بارے میں سوئے ظن عام ہوا ہے تو اس کے ذمے دار عمران خان نہیں ہیں خود جرنیل ہیں۔ آخر 2024ء کے انتخابات کو جرنیلوں ہی نے اغوا کیا۔ انہوں نے ہی ملک و قوم پر فارم 45 کے بجائے فارم 47 کی حکومت مسلط کی۔
پاکستانی معاشرے میں سیاست دانوں کے بارے میں ’’سوئے ظن‘‘ عام ہے تو اس کا ذمے دار بھی معاشرہ نہیں خود سیاست دان ہیں۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کی ’’سیاسی ایجاد‘‘ نہیں تھے؟ کیا وہ جنرل ایوب کو ’’ڈیڈی‘‘ نہیں کہتے تھے؟ کیا میاں نواز شریف جی ایچ کیو کے خار دار پیڑ پر کھِلنے والا پھول نہیں ہیں؟ کیا انہیں جنرل جیلانی اور جنرل ضیا الحق نے پال پوس کر بڑا نہیں کیا؟ کیا جنرل ضیا الحق نے الطاف حسین کو الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو ایم کیو ایم نہیں بنایا؟ کیا عمران خان جرنیلوں کے کاندھوں پر سوار ہو کر ملک کے وزیراعظم نہیں بنے؟ کیا اسٹیبلشمنٹ کا ایک دھڑا اب بھی خاموشی کے ساتھ عمران خان کی پشت پناہی نہیں کررہا؟ اس تناظر میں اگر سیاست دانوں کے بارے میں معاشرے میں ’’سوئے ظن‘‘ عام ہے تو کیا ایسا ہونا فطری نہیں ہے؟ کیا پاکستانی سیاست دانوں نے کبھی جرنیلوں کی مزاحمت کا حق ادا کیا ہے؟
شریف خاندان کے بارے میں معاشرے کی عظیم اکثریت یہ رائے رکھتی ہے کہ یہ پورا خاندان بدعنوان ہے۔ اتفاق سے اس پورے خاندان کی بدعنوانی کی ٹھوس شہادتیں موجود ہیں۔ بعض احمق لوگ میاں نواز شریف کے والد میاں شریف کو بڑا متقی و پرہیز گار سمجھتے ہیں۔ مگر ملک کے ممتاز صحافی ضیا شاہد نے میاں نواز شریف پر لکھی گئی اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ وہ ایک روز نواز شریف کے والد میاں شریف سے ملے انہوں نے ضیا شاہد سے کہا کہ میں نے نواز شریف کی سیاست پر تین ارب روپے خرچ کیے ہیں۔ ضیا شاہد نے پوچھا اب آپ کیا چاہتے ہیں؟ میاں شریف نے کہا میں چاہتا ہوں کہ نواز شریف مجھے 9 ارب روپے واپس کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ میاں نواز شریف ہی نہیں ان کے والد بھی کرپٹ تھے۔ میاں نواز شریف کے خاندان کی کرپشن کا شور برپا ہوا تو مریم نواز ایک دن جیو کے ایک پروگرام میں Live لی گئیں اور انہوں نے فرمایا کہ میری برطانیہ کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی دونوں جگہ جائداد ہے۔ اس بنیاد پر اگر معاشرہ پورے شریف خاندان کے بارے میں ’’سوئے ظن‘‘ رکھتا ہے تو اس میں بیچارے معاشرے کا کیا قصور؟۔ وہ تو صرف اندھیرے کو اندھیرا کہہ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میاں نواز شریف کو ا گے بڑھانے سیاست دانوں کے بارے میں پاکستان کی علما اور انہوں نے ہونا تھا معلوم ہو بھی کوئی ہے تو اس ہی نہیں ا ہے کہ ہے اور کیا ہے ہیں کہ عام ہے
پڑھیں:
دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان کی بیٹنگ لائن(bating line colapse) 232 رنز کا تعاقب کرتے ہوئے لڑکھڑا گئی۔ پاکستان نے 27 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 119 رنز بنا لیے ہیں۔
اس سے قبل لاہور میں جاری میچ میں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔
آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔