Jasarat News:
2026-07-24@05:55:27 GMT

پاکستانی معاشرے میں سوئے ظن کیوں عام ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستانی معاشرے کو دنیا کا بہترین معاشرہ بننا تھا۔ اس لیے کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا۔ چنانچہ پاکستانی ریاست اور معاشرے دونوں کا Ideal یا تو ’’عہد ِ رسالت‘‘ کو بننا تھا یا ’’خلافت ِ راشدہ‘‘ کو۔ چنانچہ پاکستان کی سیاست کو بے مثال ہونا تھا۔ پاکستان کی معاشرت کو لاجواب ہونا تھا۔ پاکستان کی معیشت کو بہترین ہونا تھا۔ پاکستان کی اخلاقیات کو لاثانی ہونا تھا۔ مگر بدقسمتی سے 78 سال میں ایسا نہ ہوسکا۔ اس کے برعکس ہماری ہر چیز بیمار ہے۔ ہماری سیاست، ہماری معاشرت، ہماری تعلیم، ہماری تہذیب، ہماری اخلاقیات سب معمولی درجے کی ہیں۔ بہترین معاشروں کی پہچان یہ ہے کہ ان میں ’’حسن ِ ظن‘‘ غالب ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بیمار معاشروں میں ’’سوئے ظن‘‘ کی فراوانی ہوتی ہے۔ چونکہ پاکستانی معاشرہ بیمار معاشرہ ہے۔ اس لیے اس میں ہر طرف سوئے ظن پھیلا ہوا ہے۔ ہمارے ممدوح خورشید ندیم نے بھی اپنے حالیہ کالم میں اس مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔ لیکن خورشید ندیم نے صرف سوئے ظن کی نشاندہی نہیں کی بلکہ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ سوئے ظن ٹھیک نہیں۔ اس سلسلے میں خورشید ندیم نے کیا لکھا ہے انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے۔ لکھتے ہیں۔

’’ہر امیر آدمی لازم ہے کہ بددیانت ہوگا۔ یہاں دیانت داری کے ساتھ پیسہ کمانا ممکن نہیں‘‘۔

’’ہر صاحب ِ منصب لازم ہے کہ کسی ناجائز طریقے سے اس مقام تک پہنچا ہو گا۔ پاکستان میں ممکن نہیں کہ کسی کو میرٹ پر منصب ملے‘‘۔

’’کسی صاحب ِ حیثیت کی تعریف لازم ہے کہ ناجائز مراعات کے لیے کی گئی ہو گی۔ بلامقصد کون کسی کی مدح کرتا ہے‘‘۔

اَن گنت مغالطے ہمیں گھیرے رکھتے ہیں جو بالآخر ہماری سماجی نفسیات کو برباد کر دیتے ہیں۔ میں نے تین کا ذکر کیا ہے۔ یہ اس بات کا اعلانِ عام ہے کہ ہمارے سماج سے حسن ِ ظن ختم ہو گیا ہے۔ کسی کو قیمتی گاڑی میں دیکھ کر ہمارا پہلا تبصرہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ناجائز مال سے خریدی گئی ہے۔ ہم کسی کو ایک منصب پر فائز دیکھتے ہیں تو پہلا خیال یہ آتا ہے کہ اسے کسی خدمت کے صلے میں نوازا گیا ہے‘ ورنہ اس میں یہ اہلیت کہاں تھی۔ اسی طرح ایک محتاط آدمی کسی صاحب ِ منصب کی خوبی کے بیان میں بخل سے کام لیتا ہے کہ اس کو خوشامد سے تعبیر کیا جائے گا۔ لوگ خیال کریں گے کہ اس کو منصب بردار سے کوئی کام آن پڑا ہے۔

اس رویے کا ایک سبب ہے اور وہ ہے سوئے ظن کا غلبہ۔ اگر ہم بدگمانی کی عینک اُتار کر دیکھیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ بہت سے امرا وہ ہیں جنہوں نے جائز ذرائع سے پیسے جمع کیے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے کاروبار میں بروقت قدم رکھا جو نسبتاً زیادہ منافع بخش تھا اور ان کے وارے نیارے ہو گئے۔ ایسا ہی ایک کاروبار زمین اور جائداد کی خریدو فروخت کا ہے۔ تین چار برس پہلے تک‘ جس زمین کی قیمت کوڑیوں میں تھی‘ وہ لاکھوں میں ہو چکی تھی۔ جنہوں نے صحیح وقت پر اس کاروبار کا انتخاب کیا‘ ان کے دن پھر گئے۔ اس کی بے شمار مثالیں ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ لوگوں نے سستی زمین خریدی‘ اسے ایک منظم ہائوسنگ سوسائٹی میں بدلا اور بہت پیسے کمائے۔

ایسا ہی ایک کاروبار کھانے پینے سے متعلق ہے۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پلائو بیچنے والی ایک دکان‘ دیکھتے ہی دیکھتے متعدد ریستورانوں کی ایک لڑی بن گئی۔ دو تین ہفتے پہلے میں نے خبر پڑھی کہ گوجر خان میں اس کی ایک نئی شاخ کا افتتاح ہوا تو پہلے دن ہی 51 لاکھ کی بکری ہوئی۔ گاہک قطار بنائے کھڑے تھے مگر کھانا ختم ہو چکا تھا۔ ان کی شہرت کبھی بری نہیں رہی۔ میں نے لوگوں سے سنا کہ یہ انفاق کرنے والوں میں سے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو گردو نواح میں ایسی بہت سی مثالیں تلاش کر سکتے ہیں کہ لوگوں نے محنت کی اور درست وقت پر صحیح فیصلے کیے تو ان کے کاروبار کو غیرمعمولی فروغ ملا۔ ایک مثال میڈیا بھی ہے۔ الیکٹرونک میڈیا کا آنا تو ابلاغ کی دنیا میں ایک انقلاب تھا۔ صحافت اب سو فی صد کاروبار ہے اور ایک اچھا اینکر اس کاروبارکا روحِ رواں ہے۔ نتیجتاً اسے اتنی تنخواہ ملنے لگی کہ کسی صحافی نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا۔ اس کا ناگزیر نتیجہ آسودہ زندگی ہے۔ یہی معاملہ بعض سروسز کا بھی ہے۔ جیسے ڈاکٹر‘ جیسے وکلا‘ یہ چند مثالیں ہیں جو دلیل ہیں کہ جائز طریقے سے بھی پیسہ کمایا جا سکتا ہے۔ ہر وہ آمدن جائز ہے جو قانون کے مطابق اور اس کی نظر میں ہے‘‘۔ (روزنامہ دنیا، 20 دسمبر 2025ء)

خورشید ندیم نے مسئلے پر تفصیلی کالم تو لکھ دیا مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاشرے میں سوئے ظن عام ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟ دیکھا جائے تو اس سوئے ظن کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ معاشرے کا کوئی بھی طبقہ وہ کام نہیں کررہا جس کے لیے وہ برپا ہوا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال علما و صوفیا کا طبقہ ہے۔ مسلم معاشرے میں علما و صوفیا معاشرے کی روح ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے کا مثالیہ یا Ideal ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے میں علم تخلیق بھی کرتے ہیں اور اسے فروغ بھی دیتے ہیں۔ وہ معاشرے کی روحانی اور اخلاقی تربیت بھی کرتے ہیں۔ مگر اقبال نے ایک صدی پہلے علما اور صوفیا کے بارے میں کہا تھا۔

اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک

نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ

ہمارے زمانے تک آتے آتے اس حوالے سے صورت حال اور بھی ابتر ہوگئی ہے۔ بلاشبہ ہمارے مدارس ہماری علمی روایت کی ’’ترسیل‘‘ کا کام تو بخوبی کررہے ہیں اور اس حوالے سے ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے مگر وہ اس روایت کو آگے بڑھانے سے قاصر ہیں۔ ہمیں مدارس کے اساتذہ اور طلبہ سے ملتے ہوئے 40 سال ہوگئے۔ ہم جب بھی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ سے ملتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کے تخصّص کے طلبہ میں سے کسی نے قرآن و حدیث پر کوئی تخلیقی و تحقیقی کام کیا ہے؟ سیرت طیبہ پر کوئی مقالہ یا کتاب تحریر کی ہے؟ کسی فقہی مسئلے پر کوئی رسالہ یا کتاب تحریر کی ہے؟ بدقسمتی سے ہمیں ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ البتہ ہمارا مذہبی ذہن ’’مسلک پرستی‘‘ اور ’’فرقہ بندی‘‘ میں طاق ہے۔ لیکن اس دائرے میں بھی کوئی تخلیقی و تحقیقی کام نہیں کررہا۔ مولانا اشرف علی تھانوی دیوبندی مکتبہ فکر کے سب سے بڑے عالم ہیں مگر افسوس دیوبندی مکتبہ فکر میں ان کی فکر کو آگے بڑھانے والا کوئی نہیں۔ اعلیٰ حضرت بریلوی مکتبہ فکر کے سب سے بڑے عالم ہیں مگر ان کی فکر کو آگے بڑھانے والا بھی کوئی نہیں۔ مولانا مودودی بیسویں صدی میں پوری امت کے امام تھے مگر جماعت اسلامی میں ان کی فکر کو آگے بڑھانے والا بھی کوئی نہیں۔ پروفیسر خورشید اور خرم جاہ مراد نے اپنی تحریروں میں یا تو مولانا کو دہرایا ہے یا Distort کیا ہے۔ یہ قوم کی بدقسمتی ہے کہ علما اور مشائخ کی اکثریت ہمیشہ فوجی آمروں کی حامی بن کر کھڑی ہوجاتی ہے۔ کبھی وہ جنرل ضیا الحق کے حامی تھی آج وہ جنرل عاصم منیر کی حامی ہے۔

ہم نے اسکول اور یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے چنانچہ ان کا حال ’’مشاہدے‘‘ اور ’’تجربے‘‘ کی سطح پر جانتے ہیں۔ ہم اسکول، کالج اور یونیورسٹی تینوں مقامات پر رہنمائی کرنے والے اساتذہ کو تلاش کرتے رہے اور تلاش نہ کرسکے۔ ہمارا میٹرک کا رزلٹ آیا تو ہم نے 69.

4 فی صد نمبروں سے میٹرک پاس کیا تھا۔ ہماری مارکس شیٹ کو دیکھ کر اسکول کے ایک استاد نے کہا۔ مارکس شیٹ آپ کی اپنی محنت اور لیاقت کا حاصل ہے۔ اس میں اسکول کا کوئی حصہ نہیں۔ ہم نے گورنمنٹ پریمیر کالج ناظم آباد نمبر 2 سے انٹر کیا۔ ہم نے اردو کے استاد سے سلیم احمد کی ایک نظم کے معنی پوچھے تو وہ پانچ دن تک نظم کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے اور نہ سمجھ سکے۔ ہم نے کالج کے میگزین کے لیے اپنی دو غزلیں اشاعت کے لیے دیں تو میگزین کے انچارج سرسعید نے غزلیں پڑھ کر کہا کہ اتنی اچھی غزلیں تو بڑے بڑے شاعروں کے پاس نہیں ہیں۔ چنانچہ یہ تمہاری غزلیں ہو ہی نہیں سکتیں۔ چنانچہ انہوں نے ان غزلوں کو میگزین میں شائع کرنے سے انکار کردیا۔ ہم نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا اور ہم نے شعبہ ابلاغ عامہ کی تاریخ میں پہلی بار دو دانش وروں یعنی سلیم احمد اور مشفق خواجہ کی کالم نویسی پر دو تحقیقی مقالے لکھے۔ سلیم احمد پر ہمارا مقالہ 200 صفحات اور مشفق خواجہ پر ہمارا مقالہ 120 صفحات پر مشتمل تھا۔ یہ دونوں اوریجنل کام تھے مگر ہمیں ان مقالوں پر 100 میں سے صرف 75 نمبر ملے۔ مشفق خواجہ کا مقالہ ہم نے میڈم شاہدہ مرزا کے ساتھ کیا تھا جو ہمیں ٹیلی وژن جرنلزم بھی پڑھاتی تھیں۔ کمال کی بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک تحقیقی اور تخلیقی مقالے پہ ہمیں 100 میں 75 نمبر دیے اور ٹی وی جرنلزم کے پرچے میں جو سو فی صد رّٹے کا پرچہ تھا انہوں نے ہمیں سو میں سے 83 نمبر دیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ علما اور جدید تعلیمی اداروں کے اساتذہ میں کوئی فرق نہیں۔ ان حالات میں اگر علما اور جدید تعلیمی نظام سے وابستہ اساتذہ کے بارے میں سوئے ظن پیدا نہیں ہوگا تو کیا حُسن ظن پیدا ہوگا؟

ساری دنیا میں جرنیل ریاست کے ’’محافظ‘‘ ہوتے ہیں مگر پاکستان میں وہ ریاست کے ’’مالک‘‘ بن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ حالانکہ ریاست کی تباہی میں جرنیلوں کا کردار سیاست دانوں سے بہت زیادہ ہے۔ تاریخ کے ریکارڈ پر یہ بات موجود ہے کہ امریکی جرنیلوں نے امریکا کو دوسری جنگ عظیم جیت کر دی مگر انہوں نے اس بنیاد پر کبھی یہ نہیں کہا کہ ہمیں ریاست کا ’’مالک‘‘ سمجھا جائے۔ نہ انہوں نے کبھی امریکا کی سیاست اور ریاست پر قبضہ کرکے اس پر مارشل لا مسلط کیا۔ 1971ء میں بھارتی جرنیلوں نے پاکستان کو دولخت کرکے مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنادیا۔ انہوں نے پاکستان کے 90 ہزار فوجیوں سے ہتھیار ڈلوا دیے۔ یہ اتنی بڑی کامیابی تھی کہ اس بنیاد پر بھارتی جرنیل ہندوستان پر مارشل لا مسلط کرکے ہندوستان کے مالک بن جاتے تو بات سمجھ میں آتی مگر بھارتی جرنیل 1971ء میں بھی سول حکومت کے ماتحت اور بھارتی آئین کے پابند رہے۔

اس کے برعکس پاکستانی جرنیلوں نے آدھا پاکستان گنوایا۔ قوم پر 90 ہزار فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے کی ذلت مسلط کی مگر اس کے باوجود بھی وہ پاکستان کی ریاست و سیاست پر قابض ہیں۔ چنانچہ پاکستانی جرنیلوں کے بارے میں سوئے ظن عام ہوا ہے تو اس کے ذمے دار عمران خان نہیں ہیں خود جرنیل ہیں۔ آخر 2024ء کے انتخابات کو جرنیلوں ہی نے اغوا کیا۔ انہوں نے ہی ملک و قوم پر فارم 45 کے بجائے فارم 47 کی حکومت مسلط کی۔

پاکستانی معاشرے میں سیاست دانوں کے بارے میں ’’سوئے ظن‘‘ عام ہے تو اس کا ذمے دار بھی معاشرہ نہیں خود سیاست دان ہیں۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کی ’’سیاسی ایجاد‘‘ نہیں تھے؟ کیا وہ جنرل ایوب کو ’’ڈیڈی‘‘ نہیں کہتے تھے؟ کیا میاں نواز شریف جی ایچ کیو کے خار دار پیڑ پر کھِلنے والا پھول نہیں ہیں؟ کیا انہیں جنرل جیلانی اور جنرل ضیا الحق نے پال پوس کر بڑا نہیں کیا؟ کیا جنرل ضیا الحق نے الطاف حسین کو الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو ایم کیو ایم نہیں بنایا؟ کیا عمران خان جرنیلوں کے کاندھوں پر سوار ہو کر ملک کے وزیراعظم نہیں بنے؟ کیا اسٹیبلشمنٹ کا ایک دھڑا اب بھی خاموشی کے ساتھ عمران خان کی پشت پناہی نہیں کررہا؟ اس تناظر میں اگر سیاست دانوں کے بارے میں معاشرے میں ’’سوئے ظن‘‘ عام ہے تو کیا ایسا ہونا فطری نہیں ہے؟ کیا پاکستانی سیاست دانوں نے کبھی جرنیلوں کی مزاحمت کا حق ادا کیا ہے؟

شریف خاندان کے بارے میں معاشرے کی عظیم اکثریت یہ رائے رکھتی ہے کہ یہ پورا خاندان بدعنوان ہے۔ اتفاق سے اس پورے خاندان کی بدعنوانی کی ٹھوس شہادتیں موجود ہیں۔ بعض احمق لوگ میاں نواز شریف کے والد میاں شریف کو بڑا متقی و پرہیز گار سمجھتے ہیں۔ مگر ملک کے ممتاز صحافی ضیا شاہد نے میاں نواز شریف پر لکھی گئی اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ وہ ایک روز نواز شریف کے والد میاں شریف سے ملے انہوں نے ضیا شاہد سے کہا کہ میں نے نواز شریف کی سیاست پر تین ارب روپے خرچ کیے ہیں۔ ضیا شاہد نے پوچھا اب آپ کیا چاہتے ہیں؟ میاں شریف نے کہا میں چاہتا ہوں کہ نواز شریف مجھے 9 ارب روپے واپس کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ میاں نواز شریف ہی نہیں ان کے والد بھی کرپٹ تھے۔ میاں نواز شریف کے خاندان کی کرپشن کا شور برپا ہوا تو مریم نواز ایک دن جیو کے ایک پروگرام میں Live لی گئیں اور انہوں نے فرمایا کہ میری برطانیہ کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی دونوں جگہ جائداد ہے۔ اس بنیاد پر اگر معاشرہ پورے شریف خاندان کے بارے میں ’’سوئے ظن‘‘ رکھتا ہے تو اس میں بیچارے معاشرے کا کیا قصور؟۔ وہ تو صرف اندھیرے کو اندھیرا کہہ رہا ہے۔

 

شاہنواز فاروقی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میاں نواز شریف کو ا گے بڑھانے سیاست دانوں کے بارے میں پاکستان کی علما اور انہوں نے ہونا تھا معلوم ہو بھی کوئی ہے تو اس ہی نہیں ا ہے کہ ہے اور کیا ہے ہیں کہ عام ہے

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ