پاکستان کا پہلا ’ریپ‘‘ ریئلٹی شو، طلحہ انجم اور بوہیمیا کا کردار کیا ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
پاکستان کا پہلا ریئلٹی ریپ شو ’’ریپ آئیکن پاکستان‘‘ 2026 میں ناظرین کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کا باضابطہ اعلان پکسل انٹرٹینمنٹ کی جانب سے کردیا گیا ہے۔
اعلان کے مطابق پاکستان کے معروف ریپر طلحہ انجم اور آرٹسٹ بوہیمیا اس منفرد شو میں ججز کے فرائض انجام دیں گے۔ شو کا مقصد نوجوان اور ابھرتے ہوئے ریپ ٹیلنٹ کو سامنے لانا ہے۔
ریپ آئیکن پاکستان مجموعی طور پر 10 اقساط پر مشتمل ہوگا، جن کی نشریات عیدالفطر کے قریب متوقع ہیں۔ شو میں 10 سے 12 منتخب شرکاء مختلف ریپ چیلنجز میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے، جبکہ ابتدائی اقساط میں ناکامی کی صورت میں مقابلے سے باہر ہونے کا امکان بھی موجود ہوگا۔
منتظمین نے ممکنہ شرکاء سے درخواستیں طلب کرلی ہیں۔ دلچسپی رکھنے والے امیدواروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ’’ریپ آئیکن پاکستان‘‘ کے الفاظ پر مبنی ایک ریپ ٹریک تیار کریں اور اپنی پرفارمنس کی ویڈیو ارسال کریں۔
پروڈیوسرز کے مطابق آڈیشن اور انتخاب کا مرحلہ جنوری میں شروع ہوگا، جبکہ کوشش کی جا رہی ہے کہ شو کی مکمل شوٹنگ رمضان سے پہلے مکمل کرلی جائے۔
اگرچہ پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا ریئلٹی ریپ شو ہے، تاہم عالمی سطح پر یہ تصور پہلے ہی کامیاب ثابت ہوچکا ہے۔ امریکا میں The Rap Game پانچ سیزنز مکمل کرچکا ہے، جبکہ بھارت میں MTV Hustle نے دیسی ہپ ہاپ کو ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا۔
ریپ آئیکن پاکستان کو ملکی موسیقی کے منظرنامے میں ایک نئے باب کے طور پر دیکھا جارہا ہے، جس سے نہ صرف نئے ٹیلنٹ کو پہچان ملے گی بلکہ ریپ کلچر کو بھی مرکزی دھارے میں جگہ ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔