فِن ٹیک چیلنج، صارفین ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال سے گریزاں
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
کراچی:
پاکستان کے فِن ٹیک شعبے نے گزشتہ دہائی میں ڈیجیٹل مالیاتی رسائی بڑھانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم ماہرین اور ترقیاتی ادارے خبردار کررہے ہیں کہ اصل مسئلہ صارفین کوسسٹم میں لانا نہیں، بلکہ انہیں روزمرہ بنیاد پر ڈیجیٹل ادائیگیاں استعمال کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی ڈیجیٹل فنانس سے متعلق تازہ رپورٹ کے مطابق اگرچہ لاکھوں افرادکے پاس موبائل والٹس موجودہیں،مگر روزمرہ لین دین میں اب بھی کیش کاغلبہ برقرارہے۔
جازکیش کے ہیڈآف کمیونیکیشن اینڈکسٹمر کیئر خیام صدیقی کے مطابق پاکستان میں فِن ٹیک کا اصل چیلنج رسائی سے روزمرہ استعمال کی جانب منتقلی ہے، ڈیجیٹل ادائیگیاں تبھی کیش کی جگہ لیتی ہیں، جب وہ سستی، قابلِ اعتماداور روزمرہ زندگی میں شامل ہوں۔
جازکیش کے 5 کروڑ 50 لاکھ سے زائدصارفین ہیں اور یہ روزانہ ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد ٹرانزیکشنز جبکہ 2025 میں 15 کھرب روپے سے زائدمالیت کے لین دین کو پروسیس کر چکا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اسکیل بھی صارفین کے رویے میں مکمل تبدیلی کی ضمانت نہیں۔
اے ڈی بی رپورٹ کے مطابق کم آمدن والے صارفین اور چھوٹے تاجروں کیلیے ٹرانزیکشن فیس بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ کیش کو اب بھی مفت اور فوری سمجھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ فراڈ، ڈیٹاکے غلط استعمال اور ناکام ٹرانزیکشنزکے خدشات کی وجہ سے صارفین کااعتمادبھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکا، خاص طور پرکم تعلیم یافتہ اور نئے صارفین زیادہ متاثر ہورہے ہیں، انفراسٹرکچرکی کمزوری بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں رکاوٹ ہے۔
مزید پڑھیںپاکستان کا ڈیجیٹل معیشت اور بٹ کوائن ٹیکنالوجی کی جانب مضبوط قدم؛ترقی کی نئی جہتیں روشن
ڈیجیٹل خانہ بدوشوں کی ہجرت، معیشت سے جان نکلنے لگی
شہری علاقوں کے علاوہ کئی مقامات پرموبائل انٹرنیٹ کی غیر یقینی دستیابی،نیٹ ورک میں خلل اور بجلی کی بندش لین دین کے عمل کو متاثر کرتی ہے، جس کے باعث صارفین اور تاجر دوبارہ کیش کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
مزید یہ کہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے درمیان عدم مطابقت کی وجہ سے نظام بکھراہواہے،جس سے صارفین کومتعددوالٹس رکھنے پڑتے ہیں اور تاجروں کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
ریگولیٹری پیچیدگیاں اور فن ٹیک اسٹارٹ اپس کیلیے زیادہ لاگت بھی جدت کی رفتارکو سست کر رہی ہیں۔ اگرچہ سرکاری فلاحی رقوم کی ادائیگیوں میں ڈیجیٹل والٹس کااستعمال شفافیت اوراعتماد بڑھانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔
لیکن اکثر صارفین رقم وصول کرنے کے فوراً بعد کیش نکلوا لیتے ہیں، جس سے مسلسل ڈیجیٹل استعمال کا رجحان محدود رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مالیاتی خواندگی کی کمی بھی بڑامسئلہ ہے، صارفین فیس،سیکیورٹی اور ڈیجیٹل سروسز کے فوائد سے مکمل آگاہ نہیں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا
نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔
ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔
فیچر کیسے کام کرتا ہے؟صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔
مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا
ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔
ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔
مختلف ڈسپلے موڈزنئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔
پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔
اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔
مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش
فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔
گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔
صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔
بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختمایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔
صارفین کا ردعملفیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔
تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ
ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر