ننکانہ صاحب کی مشہور دیسی گھی کی مٹھائی ’من پسند‘: ذائقہ، روایت اور عقیدت کا امتزاج
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
پنجاب کے تاریخی شہر ننکانہ صاحب کی پہچان صرف مذہبی ہم آہنگی اور گوردوارہ جنم استھان تک محدود نہیں، بلکہ یہاں کی دیسی گھی سے تیار کردہ مشہور مٹھائی ’من پسند‘ بھی عالمی سطح پر اس علاقے کی شناخت بن چکی ہے۔
خالص دودھ، دیسی گھی، خشک میوہ جات اور روایتی طریقے سے تیار کی جانے والی یہ مٹھائی برسوں سے اپنی لذت، خوشبو اور خالصتاً دیسی ذائقے کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ ہمسایہ ملک بھارت سمیت مختلف ممالک میں بہت پسند کی جاتی ہے۔
ذائقے میں اپنی مثال آپ ’من پسند‘ کو لوگ تحفے کے طور پر بھجواتے ہیں جبکہ ننکانہ صاحب آنے والے سکھ اور ہندو یاتری خصوصی تحفے کے طور پر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔
یہ نہ صرف ذائقے کی سوغات ہے بلکہ رواداری، ثقافتی میل جول اور مقامی فنِ تیاری کی ایک خوبصورت علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔
اس مٹھائی کی تیاری کیسے کی جاتی ہے؟ جانیے ملک عمران شاہد کی اس رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews گوردوارہ صاحب مٹھائی مذہبی ہم آہنگی من پسند وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گوردوارہ صاحب مٹھائی مذہبی ہم ا ہنگی وی نیوز
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز