غزہ میں قیام امن کیلیے حصہ لینے کو تیار، حماس کو غیرمسلح کرنے کی کوشش میں شریک نہیں، نائب وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں صرف قیام امن میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے ہم حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی کوشش میں شریک نہیں ہوں گے ۔
دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر کا حالیہ دورۂ پاکستان انتہائی کامیاب رہا اور صدر یو اے ای و وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی بات چیت مثبت اور تعمیری تھی۔
اسحاق ڈار کے مطابق سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات نے اسٹیٹ ڈپازٹس کے ذریعے پاکستان کو سپورٹ کیا جبکہ متحدہ عرب امارات جنوری میں 2 ارب ڈالر کے رول اوور کے لیے بھی تیار ہے اور بقایا 2 ارب ڈالر کے عوض سرمایہ کاری کی بھی توقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یو اے ای فوجی فاؤنڈیشن میں شیئر لینے پر بھی آمادہ ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے وقت پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار تھا، تاہم آج پاکستان کا عالمی وقار بحال ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار روزہ جنگ کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی دعوؤں کو پاش پاش کیا اور بھارت کی مسلسل غلط بیانی اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا چکی ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور دنیا کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان نے پہل نہیں کی۔
غزہ معاملے پر نیتن یاہو اور ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
غزہ جنگ بندی معاہدے کا دوسرا مرحلہ، اسرائیل ٹال مٹول کررہا ہے، امریکا
غزہ پر قبضے کے اسرائیلی بیانات نے واشنگٹن کو ناراض کر دیا، عرب ممالک دور ہونے لگے
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پلوامہ اور پہلگام جیسے واقعات کی آڑ میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جو ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق حل نہیں ہوتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکا کے ساتھ 2025 میں دوبارہ تعلقات بحال ہوئے ہیں، پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت کا حجم 13.
انہوں نے انسداد دہشت گردی میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون کو بھی سراہا اور بتایا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالی، بارہ برس بعد متفقہ قرارداد منظور کرائی اور فلسطین و غزہ کے معاملے پر عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کیا۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان صرف قیامِ امن کی کوششوں میں حصہ لے گا، تاہم غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی کوشش کا حصہ نہیں بنے گا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ نیوکلیئر اور میزائل پروگرام نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنایا ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان معاشی قوت بنے، کیونکہ مضبوط معیشت ہی پاکستان کو مسلم امہ کی قیادت کے قابل بنائے گی۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل اسحاق ڈار نے کہا پاکستان کو کہ پاکستان کے درمیان نے کہا کہ ارب ڈالر انہوں نے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :