فراڈ، فراڈیئے اور اعتماد کا قتل
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ انسان کسی بھی شخصیت اور قریبی، چاہے وہ تنظیمی ہو یا تحریکی ساتھی، وہ کسی دینی ادارے سے وابستہ ہو یا کسی قومی جماعت یا سیاسی نیٹ ورک کا حصہ، کسی سے بھی کاروبار کرنے سے پہلے اپنی ذاتی شناخت، پرداخت کا عمل اور اطمینان خود کر لیا کرے۔ اس طرح کسی شخصیت کے قریب ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ آپ اس پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے بھاری انویسٹمنٹ کر لیں اور کسی کو بتائیں بھی نہیں، اس طرح دھوکہ و فریب کا امکان بہرحال ہوتا ہے اور کسی کے ذاتی عمل سے نقصان اجتماعی نظم کو پہنچتا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ اعتماد، بزنس، انویسٹمنٹ، کاروبار اور اعتقاد کے حوالے سے جو عالمی اصول و ضوابط بنائے گئے ہیں، انہیں کسی بھی طور پس پشت نا ڈالا جائے۔ تحریر: ارشاد حسین ناصر
وہ بہت ہی مرجھایا ہوا تھا، اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ اسے کوئی بہت بڑا درد اور رنج پہنچا ہے، اسے اس سے پہلے میں نے اس قدر غمگین، سوچوں میں گم اور کھویا کھویا نہیں دیکھا تھا۔ آج تو وہ میرے پاس آیا تو ایسا لگا کہ ابھی گلے لگ کے دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دے گا۔ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا ہے، جس کی وجہ سے اس کی ہچکیاں بندھی آواز مجھے بھی غمناک کر رہی تھی۔ میں سمجھا کہ اس کا کوئی بڑا نقصان ہوگیا ہے۔ یہ خیال بھی آیا کہ اس کو اپنی بوڑھی والدہ سے بہت پیار ہے، شائد وہ۔۔۔۔۔ بہرحال اس کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ شدید دکھ، بہت رنجیدہ، نہایت غمگین اور کسی قدر مایوسی کا شکار ہے۔ حالانکہ وہ ایسا دوست تھا، جس کو ہم میٹر ورکر کہتے تھے۔ وہ دینی کام میٹر ورکر کی طرح کرتا تھا۔ اسے دینی، تحریکی و تنظیمی کام کرکے سکون ملتا تھا۔ وہ ہر دم تیار کی عملی تعبیر اور ہر وقت آمادہ کی جیتی جاگتی تصویر اور مثال بنا رہتا۔
وہ ہمیشہ ہمیں حوصلے دیتا، میں اسے ہمیشہ روکتا کہ یار یہ زمانہ چلا گیا، مگر وہ پھر بھی دوسرے نعروں کیساتھ پرجوش انداز میں یہ نعرہ لگوا دیتا تھا، جوانیاں لٹائیں گے۔۔ انقلاب لائیں گے۔ وہ انقلاب اسلامی ایران اور امام خمینی رح کا اندھا عاشق شمار ہوتا تھا، اسے ولی امر مسلمین رہبر معظم کی ذات سے والہانہ عقیدت تھی، عملی طور پر وہ نظام ولایت فقیہ اور اس کے حامی و پرچارک علماء سے بھی ایسی ہی عقیدت تھی۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، اسے یہ سبق امامیہ طلباء کی صحبت سے ملا تھا، جہاں طالبعلمی کے دور میں اس نے تنظیم کے کئی اہم پروگرام، کنونشن اور سیمینار اٹینڈ کئے تھے۔ اب وہ کچھ ہی عرصہ پہلے عملی زندگی سے وابستہ ہوچکا تھا۔ عملی زندگی کے حقائق کچھ اور ہوتے ہیں۔ بہت سی باتیں جو طالبعلمی کے زمانہ میں سمجھ نہیں آتیں، اس دور میں آہستہ آہستہ سمجھ آنا شروع ہو جاتی ہیں۔
انسان کا دائرہ کار اور ماحول وسیع ہوتا ہے تو بہت سی باتوں کو قبول کرنا سیکھ جاتا ہے۔ سوسائٹی انسان کو بہت کچھ سکھاتی ہے۔ بلاشبہ معاشرہ بہت بڑا استاد ہے، دھکے کھا کر بندہ پختہ اور تجربہ کار کہلاتا ہے۔ کچھ دیر اس کیساتھ ہمدردی و دلجوئی کرتے میں مزید آگے بڑھا اور اسے گلے لگایا۔ اسے دلاسہ دینے والے انداز میں قریب کیا اور انتہائی شفقت بھرے انداز میں اس کو ڈرائنگ روم میں پڑے دو سیٹ والے صوفہ پر بٹھایا۔ مجھے اس کی عادت کا علم تھا کہ وہ اچھی چائے کم چینی کے ساتھ بڑے شوق سے پیتا ہے۔ روٹی ملے نا ملے، چائے اس کے بقول خاندانی ملنی چاہیئے۔ میں گھر والوں کو چائے کا کہنے اندر گیا اور پینے والا پانی لے آیا۔ جب انسان غصہ کی حالت میں ہو یا غمگین ہو تو اسے پانی پلانا چاہیئے، کھڑا ہو تو بٹھانا چاہیئے، اس طرح اس کا غصہ شائد کم ہو جاتا ہے اور انسان تھوڑا پرسکون ہوتا ہے۔۔۔
ناصر بھائی انسان کو کچھ تو خیال رکھنا چاہیئے، اپنا نہیں دوسروں کا ہی خیال رکھ لیا جائے، ان لوگوں کا خیال جو اجتماعی سیٹ اپ میں والہانہ انداز میں اپنی جانیں نچھاور کرنے کا نعرہ لگا رہے ہوتے ہیں۔ جن کو کوئی لالچ کھینچ کر نہیں لاتی، جن کے کوئی منفعت، کوئی کاروباری فائدہ پیش نگاہ نہیں ہوتا اور وہ مخلصانہ اور رضاکارانہ جذبات کیساتھ نظم کا حصہ بنتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ان شہداء کے خانوادوں کا پاس و لحاظ جن کے کمانے والے، جن کے پیارے اور راج دلارے اجتماعی نظم میں ہونے کے باعث چلے گئے۔ اپنی فعالیت اور تحرک کے باعث وہ دشمنوں کی نظر میں آئے اور نشانہ بن گئے، ان کا ہی خیال کر لیا جائے۔ اب مجھے ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ موصوف برادر جس بات پر اتنے سخت غصہ میں ہیں اور لال پیلے ہوئے جا رہے ہیں، اس کے بارے دریافت کروں۔
مجھے ذہنی طور پر ماضی کی کئی فلمیں سامنے تھیں، انہی کی طرح کے کسی سانحہ کے خدشات ذہن میں محسوس ہو رہے تھے، جس کے باعث میں کچھ ہچکچاہٹ کا شکار تھا۔ بحیثیت قوم ہم جنہیں تقدس ماآب بناتے ہیں اور سمجھتے ہیں اگر ان میں کوئی معمولی سا نقص یا کمزوری بھی سامنے آجائے تو ہمیں بہت برا لگتا ہے۔ بہرحال اس حوالے سے ہمارے دوست کی پریشانی کا سن کر ہم نے خدا کا شکر ادا کیا کہ ایسی کوئی بات نہیں تھی، جو میرے ذہن پہ خدشات ابھر رہے تھے، بس کسی انقلابی کیساتھ بزنس کر بیٹھے تھے اور اس موصوف کا نام ملکی سطح پر معروف اور جانا پہچانا، خود کو بڑے انقلابی سمجھتے ہیں اور ہر وقت انقلاب، ولایت کا دم بھرنے والوں میں شامل تھے۔ ان کے بقول دیگر سینکڑوں لوگوں کی طرح اس نے بھی، اس انقلابی ولائی شخصیت کے ساتھ اچھی خاصی بڑی رقم انویستمنٹ کے طور پر دی تھی، تاکہ اس کے گھر کا چولہا چلتا رے اور کم از کم اس کے بچوں کی اسکولز کی فیسز نکلتی رہیں۔
کچھ وقت تک یہ سلسلہ بہت اچھے انداز سے چلا، جس کی وجہ سے کچھ اور فیملی ممبرز کو بھی اس خاموش سرمایہ کاری و منافع کا بتا کر ان سے بھی انویسٹمنٹ کروا بیٹھے، مگر کچھ ہی وقت گذرا کہ اس میٹر ورکر دوست کیساتھ باقی لوگوں کی طرح منکشف ہوا کہ ان کی رقم ڈوب گئی ہے۔ موصوف کے گھر تو ماتم کی فضا بن گئی کہ کل کمائی ہی جاتی رہی۔ مہنگائی کے اس دور میں جب بندہ پائی پائی کیلئے پاپڑ بیلنے پر مجبور ہو، بڑی رقم کا ڈوب جانا ذہنی و عملی طور پر مفلوج کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی نظر آرہا تھا، انقلابی ولائی کاروباری شخصیت نے کچھ ہی عرصہ بعد، پہلے تو منافع کی مد میں دی جانے والی رقم میں خلل ڈالنا شروع کیا، جو بالآخر بزنس میں نقصان کا رونا رو کر اور رقم ڈوب جانے کے ڈرامہ کی صورت میں سینکڑوں لوگوں کو فراڈ کا شکار کر دیا۔
اب ہمارے دوست کی ساری عمر کی کمائی تھی، جو لٹا بیٹھے اور تو کچھ کر نہیں سکتے تھے، ولائیوں سے تائب ہوگئے۔ ہر محفل میںانقلابیوں پر برسنے لگے اور سارا نزلہ دینی طبقہ پہ گرانے لگے۔ میں نے حضرت کو کافی سمجھایا کہ ایک بندے کا کوئی فعل سارے سسٹم کی خرابی کی دلیل نہیں بنتا اور نا ہی ایک ایک بندے کی کمزوری یا خامی کو اجتماعی نظم کی خرابی قرار دیا جانا چاہیئے، ہاں جو لوگ اجتماعی جدوجہد کے اداروں یا تنظیموں میں کام کرتے ہیں، انہیں اس بات کا لحاظ و پاس رکھنا چاہیئے کہ ان پر ہر ایک کی نظر ہوتی ہے، ہر ایک انہیں تنظیم یا اجتماعی نظم کے عنوان اور دینی و ادارہ جاتی ذمہ داری کے حوالے سے پہچانتا ہے۔ اگر وہ کوئی بھی خرابی کریں، معمولی سا بھی کوئی ایسا کام جسے معیوب سمجھا جائے اور لوگ اسے عامیانہ کہیں تو ان کو محتاط روش اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کجا یہ کہ وہ کسی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائیں اور کسی کے ساتھ دھوکہ یا فریب کریں۔
ایسا کرنے والے بے شک اجتماعی نظم کے ساتھ ظلم کرتے ہیں اور ان لوگوں کو بغیر کسی لگی لپٹی اجتماعی نظم سے نکال باہر کرنا چاہیئے۔ قوموں کی جدوجہد بڑی قربانیوں کے بعد اور بہت خرچ کے بعد کسی مقام پر پہنچتی ہے، مگر ان میں احتساب کا فقدان اس جدوجہد کے نتیجہ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے اور ایسے ماحول میں مفاد پرست و ابن الوقت لوگ بڑی ذمہ داریوں پر آجاتے ہیں، جس کی وجہ سے تنظیمیں، تحریکیں اور قومی ادارے ان کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں اور مخلص و دین دار اور قربانیاں دینے والے کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مفاد پرست پیسے کی بنیاد پر تعلقات استوار کرتے ہیں اور قائدین ان کے پاس بڑی آن و شان کیساتھ چکر لگاتے ہیں، جس سے انہیں عام لوگوں میں اعتماد ملتا ہے، یہی ان کی انویسٹمنٹ کا حاصل حصول ہوتا ہے۔
میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ انسان کسی بھی شخصیت اور قریبی، چاہے وہ تنظیمی ہو یا تحریکی ساتھی، وہ کسی دینی ادارے سے وابستہ ہو یا کسی قومی جماعت یا سیاسی نیٹ ورک کا حصہ، کسی سے بھی کاروبار کرنے سے پہلے اپنی ذاتی شناخت، پرداخت کا عمل اور اطمینان خود کر لیا کرے۔ اس طرح کسی شخصیت کے قریب ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ آپ اس پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے بھاری انویسٹمنٹ کر لیں اور کسی کو بتائیں بھی نہیں، اس طرح دھوکہ و فریب کا امکان بہرحال ہوتا ہے اور کسی کے ذاتی عمل سے نقصان اجتماعی نظم کو پہنچتا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ اعتماد، بزنس، انویسٹمنٹ، کاروبار اور اعتقاد کے حوالے سے جو عالمی اصول و ضوابط بنائے گئے ہیں، انہیں کسی بھی طور پس پشت نا ڈالا جائے۔ خداوند کریم سے دعا ہے کہ ہمیں دوستان، مخلصین اور ہمکاران کے اعتماد پر پورا اترنے کی توفیقات عطا فرمائے۔ (آمین)
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حوالے سے کسی بھی جاتا ہے ہیں اور اور کسی نہیں ہو ہوتا ہے کے ساتھ کی طرح ہے اور سے بھی کسی کے تھا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔