Islam Times:
2026-06-03@00:55:48 GMT

فراڈ، فراڈیئے اور اعتماد کا قتل

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

فراڈ، فراڈیئے اور اعتماد کا قتل

اسلام ٹائمز: میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ انسان کسی بھی شخصیت اور قریبی، چاہے وہ تنظیمی ہو یا تحریکی ساتھی، وہ کسی دینی ادارے سے وابستہ ہو یا کسی قومی جماعت یا سیاسی نیٹ ورک کا حصہ، کسی سے بھی کاروبار کرنے سے پہلے اپنی ذاتی شناخت، پرداخت کا عمل اور اطمینان خود کر لیا کرے۔ اس طرح کسی شخصیت کے قریب ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ آپ اس پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے بھاری انویسٹمنٹ کر لیں اور کسی کو بتائیں بھی نہیں، اس طرح دھوکہ و فریب کا امکان بہرحال ہوتا ہے اور کسی کے ذاتی عمل سے نقصان اجتماعی نظم کو پہنچتا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ اعتماد، بزنس، انویسٹمنٹ، کاروبار اور اعتقاد کے حوالے سے جو عالمی اصول و ضوابط بنائے گئے ہیں، انہیں کسی بھی طور پس پشت نا ڈالا جائے۔ تحریر: ارشاد حسین ناصر

وہ بہت ہی مرجھایا ہوا تھا، اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ اسے کوئی بہت بڑا درد اور رنج پہنچا ہے، اسے اس سے پہلے میں نے اس قدر غمگین، سوچوں میں گم اور کھویا کھویا نہیں دیکھا تھا۔ آج تو وہ میرے پاس آیا تو ایسا لگا کہ ابھی گلے لگ کے دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دے گا۔ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا ہے، جس کی وجہ سے اس کی ہچکیاں بندھی آواز مجھے بھی غمناک کر رہی تھی۔ میں سمجھا کہ اس کا کوئی بڑا نقصان ہوگیا ہے۔ یہ خیال بھی آیا کہ اس کو اپنی بوڑھی والدہ سے بہت پیار ہے، شائد وہ۔۔۔۔۔ بہرحال اس کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ شدید دکھ، بہت رنجیدہ، نہایت غمگین اور کسی قدر مایوسی کا شکار ہے۔ حالانکہ وہ ایسا دوست تھا، جس کو ہم میٹر ورکر کہتے تھے۔ وہ دینی کام میٹر ورکر کی طرح کرتا تھا۔ اسے دینی، تحریکی و تنظیمی کام کرکے سکون ملتا تھا۔ وہ ہر دم تیار کی عملی تعبیر اور ہر وقت آمادہ کی جیتی جاگتی تصویر اور مثال بنا رہتا۔

وہ ہمیشہ ہمیں حوصلے دیتا، میں اسے ہمیشہ روکتا کہ یار یہ زمانہ چلا گیا، مگر وہ پھر بھی دوسرے نعروں کیساتھ پرجوش انداز میں یہ نعرہ لگوا دیتا تھا، جوانیاں لٹائیں گے۔۔ انقلاب لائیں گے۔ وہ انقلاب اسلامی ایران اور امام خمینی رح کا اندھا عاشق شمار ہوتا تھا، اسے ولی امر مسلمین رہبر معظم کی ذات سے والہانہ عقیدت تھی، عملی طور پر وہ نظام ولایت فقیہ اور اس کے حامی و پرچارک علماء سے بھی ایسی ہی عقیدت تھی۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، اسے یہ سبق امامیہ طلباء کی صحبت سے ملا تھا، جہاں طالبعلمی کے دور میں اس نے تنظیم کے کئی اہم پروگرام، کنونشن اور سیمینار اٹینڈ کئے تھے۔ اب وہ کچھ ہی عرصہ پہلے عملی زندگی سے وابستہ ہوچکا تھا۔ عملی زندگی کے حقائق کچھ اور ہوتے ہیں۔ بہت سی باتیں جو طالبعلمی کے زمانہ میں سمجھ نہیں آتیں، اس دور میں آہستہ آہستہ سمجھ آنا شروع ہو جاتی ہیں۔

انسان کا دائرہ کار اور ماحول وسیع ہوتا ہے تو بہت سی باتوں کو قبول کرنا سیکھ جاتا ہے۔ سوسائٹی انسان کو بہت کچھ سکھاتی ہے۔ بلاشبہ معاشرہ بہت بڑا استاد ہے، دھکے کھا کر بندہ پختہ اور تجربہ کار کہلاتا ہے۔ کچھ دیر اس کیساتھ ہمدردی و دلجوئی کرتے میں مزید آگے بڑھا اور اسے گلے لگایا۔ اسے دلاسہ دینے والے انداز میں قریب کیا اور انتہائی شفقت بھرے انداز میں اس کو ڈرائنگ روم میں پڑے دو سیٹ والے صوفہ پر بٹھایا۔ مجھے اس کی عادت کا علم تھا کہ وہ اچھی چائے کم چینی کے ساتھ بڑے شوق سے پیتا ہے۔ روٹی ملے نا ملے، چائے اس کے بقول خاندانی ملنی چاہیئے۔ میں گھر والوں کو چائے کا کہنے اندر گیا اور پینے والا پانی لے آیا۔ جب انسان غصہ کی حالت میں ہو یا غمگین ہو تو اسے پانی پلانا چاہیئے، کھڑا ہو تو بٹھانا چاہیئے، اس طرح اس کا غصہ شائد کم ہو جاتا ہے اور انسان تھوڑا پرسکون ہوتا ہے۔۔۔

ناصر بھائی انسان کو کچھ تو خیال رکھنا چاہیئے، اپنا نہیں دوسروں کا ہی خیال رکھ لیا جائے، ان لوگوں کا خیال جو اجتماعی سیٹ اپ میں والہانہ انداز میں اپنی جانیں نچھاور کرنے کا نعرہ لگا رہے ہوتے ہیں۔ جن کو کوئی لالچ کھینچ کر نہیں لاتی، جن کے کوئی منفعت، کوئی کاروباری فائدہ پیش نگاہ نہیں ہوتا اور وہ مخلصانہ اور رضاکارانہ جذبات کیساتھ نظم کا حصہ بنتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ان شہداء کے خانوادوں کا پاس و لحاظ جن کے کمانے والے، جن کے پیارے اور راج دلارے اجتماعی نظم میں ہونے کے باعث چلے گئے۔ اپنی فعالیت اور تحرک کے باعث وہ دشمنوں کی نظر میں آئے اور نشانہ بن گئے، ان کا ہی خیال کر لیا جائے۔ اب مجھے ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ موصوف برادر جس بات پر اتنے سخت غصہ میں ہیں اور لال پیلے ہوئے جا رہے ہیں، اس کے بارے دریافت کروں۔

مجھے ذہنی طور پر ماضی کی کئی فلمیں سامنے تھیں، انہی کی طرح کے کسی سانحہ کے خدشات ذہن میں محسوس ہو رہے تھے، جس کے باعث میں کچھ ہچکچاہٹ کا شکار تھا۔ بحیثیت قوم ہم جنہیں تقدس ماآب بناتے ہیں اور سمجھتے ہیں اگر ان میں کوئی معمولی سا نقص یا کمزوری بھی سامنے آجائے تو ہمیں بہت برا لگتا ہے۔ بہرحال اس حوالے سے ہمارے دوست کی پریشانی کا سن کر ہم نے خدا کا شکر ادا کیا کہ ایسی کوئی بات نہیں تھی، جو میرے ذہن پہ خدشات ابھر رہے تھے، بس کسی انقلابی کیساتھ بزنس کر بیٹھے تھے اور اس موصوف کا نام ملکی سطح پر معروف اور جانا پہچانا، خود کو بڑے انقلابی سمجھتے ہیں اور ہر وقت انقلاب، ولایت کا دم بھرنے والوں میں شامل تھے۔ ان کے بقول دیگر سینکڑوں لوگوں کی طرح اس نے بھی، اس انقلابی ولائی شخصیت کے ساتھ اچھی خاصی بڑی رقم انویستمنٹ کے طور پر دی تھی، تاکہ اس کے گھر کا چولہا چلتا رے اور کم از کم اس کے بچوں کی اسکولز کی فیسز نکلتی رہیں۔

کچھ وقت تک یہ سلسلہ بہت اچھے انداز سے چلا، جس کی وجہ سے کچھ اور فیملی ممبرز کو بھی اس خاموش سرمایہ کاری و منافع کا بتا کر ان سے بھی انویسٹمنٹ کروا بیٹھے، مگر کچھ ہی وقت گذرا کہ اس میٹر ورکر دوست کیساتھ باقی لوگوں کی طرح منکشف ہوا کہ ان کی رقم ڈوب گئی ہے۔ موصوف کے گھر تو ماتم کی فضا بن گئی کہ کل کمائی ہی جاتی رہی۔ مہنگائی کے اس دور میں جب بندہ پائی پائی کیلئے پاپڑ بیلنے پر مجبور ہو، بڑی رقم کا ڈوب جانا ذہنی و عملی طور پر مفلوج کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی نظر آرہا تھا، انقلابی ولائی کاروباری شخصیت نے کچھ ہی عرصہ بعد، پہلے تو منافع کی مد میں دی جانے والی رقم میں خلل ڈالنا شروع کیا، جو بالآخر بزنس میں نقصان کا رونا رو کر اور رقم ڈوب جانے کے ڈرامہ کی صورت میں سینکڑوں لوگوں کو فراڈ کا شکار کر دیا۔

اب ہمارے دوست کی ساری عمر کی کمائی تھی، جو لٹا بیٹھے اور تو کچھ کر نہیں سکتے تھے، ولائیوں سے تائب ہوگئے۔ ہر محفل میںانقلابیوں پر برسنے لگے اور سارا نزلہ دینی طبقہ پہ گرانے لگے۔ میں نے حضرت کو کافی سمجھایا کہ ایک بندے کا کوئی فعل سارے سسٹم کی خرابی کی دلیل نہیں بنتا اور نا ہی ایک ایک بندے کی کمزوری یا خامی کو اجتماعی نظم کی خرابی قرار دیا جانا چاہیئے، ہاں جو لوگ اجتماعی جدوجہد کے اداروں یا تنظیموں میں کام کرتے ہیں، انہیں اس بات کا لحاظ و پاس رکھنا چاہیئے کہ ان پر ہر ایک کی نظر ہوتی ہے، ہر ایک انہیں تنظیم یا اجتماعی نظم کے عنوان اور دینی و ادارہ جاتی ذمہ داری کے حوالے سے پہچانتا ہے۔ اگر وہ کوئی بھی خرابی کریں، معمولی سا بھی کوئی ایسا کام جسے معیوب سمجھا جائے اور لوگ اسے عامیانہ کہیں تو ان کو  محتاط روش اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کجا یہ کہ وہ کسی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائیں اور کسی کے ساتھ دھوکہ یا فریب کریں۔

ایسا کرنے والے بے شک اجتماعی نظم کے ساتھ ظلم کرتے ہیں اور ان لوگوں کو بغیر کسی لگی لپٹی اجتماعی نظم سے نکال باہر کرنا چاہیئے۔ قوموں کی جدوجہد بڑی قربانیوں کے بعد اور بہت خرچ کے بعد کسی مقام پر پہنچتی ہے، مگر ان میں احتساب کا فقدان اس جدوجہد کے نتیجہ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے اور ایسے ماحول میں مفاد پرست و ابن الوقت لوگ بڑی ذمہ داریوں پر آجاتے ہیں، جس کی وجہ سے تنظیمیں، تحریکیں اور قومی ادارے ان کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں اور مخلص و دین دار اور قربانیاں دینے والے کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مفاد پرست پیسے کی بنیاد پر تعلقات استوار کرتے ہیں اور قائدین ان کے پاس بڑی آن و شان کیساتھ چکر لگاتے ہیں، جس سے انہیں عام لوگوں میں اعتماد ملتا ہے، یہی ان کی انویسٹمنٹ کا حاصل حصول ہوتا ہے۔

میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ انسان کسی بھی شخصیت اور قریبی، چاہے وہ تنظیمی ہو یا تحریکی ساتھی، وہ کسی دینی ادارے سے وابستہ ہو یا کسی قومی جماعت یا سیاسی نیٹ ورک کا حصہ، کسی سے بھی کاروبار کرنے سے پہلے اپنی ذاتی شناخت، پرداخت کا عمل اور اطمینان خود کر لیا کرے۔ اس طرح کسی شخصیت کے قریب ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ آپ اس پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے بھاری انویسٹمنٹ کر لیں اور کسی کو بتائیں بھی نہیں، اس طرح دھوکہ و فریب کا امکان بہرحال ہوتا ہے اور کسی کے ذاتی عمل سے نقصان اجتماعی نظم کو پہنچتا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ اعتماد، بزنس، انویسٹمنٹ، کاروبار اور اعتقاد کے حوالے سے جو عالمی اصول و ضوابط بنائے گئے ہیں، انہیں کسی بھی طور پس پشت نا ڈالا جائے۔ خداوند کریم سے دعا ہے کہ ہمیں دوستان، مخلصین اور ہمکاران کے اعتماد پر پورا اترنے کی توفیقات عطا فرمائے۔ (آمین)

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حوالے سے کسی بھی جاتا ہے ہیں اور اور کسی نہیں ہو ہوتا ہے کے ساتھ کی طرح ہے اور سے بھی کسی کے تھا کہ

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی