وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مہاجر قوم کو 40 سال تک ایک کرمنل کی ناعاقبت اندیش قیادت نے نقصان پہنچایا۔ انہوں نے الطاف حسین پر ڈاکٹر عمران فاروق کے جنازے کے موقع پر غیر اخلاقی حرکات اور قوم کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا الزام عائد کیا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفٰی کمال نے پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین پر سخت نکتہ چینی کی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، مصطفیٰ کمال نے کہا کہ الطاف حسین نے ہمیشہ جب چاہا بول کر اور ہر صورت میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، اور مہاجر قوم کو نقصان پہنچایا۔

وزیر صحت نے الزام لگایا کہ الطاف حسین نے لندن میں ڈاکٹر عمران فاروق کے جنازے کی تصویر لینے کے لیے غیر اخلاقی طریقے استعمال کیے اور اس کا ویڈیو ریکارڈ کرایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ شخص 40 سال سے قوم کے ساتھ کھیل رہا ہے اور اس نے پوری مہاجر نسل کو متاثر کیا۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ الطاف حسین کے پاس اتنی طاقت تھی کہ چند منٹ کی کال پر لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آتے، لیکن اس نے کبھی قوم کے مفاد میں کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔

وزیر صحت نے یہ بھی کہا کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے آئینی ترمیم لانا ضروری ہے، لیکن الطاف حسین کی قیادت میں یہ ممکن نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مہاجر قوم کو بدقسمتی کا سامنا کرنا پڑا اور ایسے افراد قوم کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بنے۔

پریس کانفرنس کے دوران مصطفٰی کمال نے الطاف حسین کو ’بے غیرت‘ قرار دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ اس کو توبہ کی توفیق دے، لیکن انہوں نے کہا کہ اب تک ایسا ممکن نہیں ہوا اور یہ شخص اپنی زندگی میں قوم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: مہاجر قوم کو الطاف حسین انہوں نے کمال نے کہا کہ قوم کے کے لیے

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت