یونان کے قریب بڑا ریسکیو آپریشن، 131 تارکینِ وطن سمندر میں ڈوبنے سے بچا لیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
یونان کے کوسٹ گارڈ نے جزیرہ کریٹ کے قریب سمندر میں پھنسے 131 غیر قانونی تارکینِ وطن کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔
یونانی پولیس کے ترجمان کے مطابق گزشتہ پانچ روز کے دوران اس علاقے میں سمندر سے نکالے جانے والے تارکینِ وطن کی مجموعی تعداد 840 ہو گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق ہفتے کی صبح ایک ماہی گیری کی کشتی سے تارکینِ وطن کو جزیرہ گاوڈوس کے جنوب میں تقریباً 14 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ریسکیو کیا گیا۔ تمام افراد کو محفوظ طریقے سے گاوڈوس منتقل کر دیا گیا، تاہم فوری طور پر ان کی قومیت ظاہر نہیں کی گئی۔
مشرقی بحیرہ روم کا یہ راستہ اب بھی انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے، جہاں تارکینِ وطن بڑی تعداد میں لیبیا سے یونان کے جزیرے کریٹ تک سمندری سفر کی کوشش کرتے ہیں۔
مزید پڑھیںیونان کشتی حادثہ 2023؛ ایف آئی اے کے متعدد افسران و اہلکار برطرف
یونان میں کسانوں کے مظاہرے شدت اختیار کر گئے۔ پولیس اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں
رواں ماہ کے آغاز میں کریٹ کے قریب ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر سوڈانی اور مصری شہری شامل تھے، جبکہ 15 افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ اس حادثے میں صرف دو افراد زندہ بچ سکے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک 16 ہزار 770 سے زائد تارکینِ وطن جزیرہ کریٹ پہنچ چکے ہیں۔
اسی تناظر میں جولائی میں یونان کی قدامت پسند حکومت نے لیبیا سے آنے والے تارکینِ وطن کی پناہ کی درخواستوں پر تین ماہ کے لیے عملدرآمد معطل کر دیا تھا، جسے حکام نے ناگزیر قرار دیا۔
دوسری جانب انڈونیشیا میں خراب موسم کے باعث ایک سیاحتی کشتی ڈوبنے کے بعد ایک ہسپانوی خاندان کے چار افراد تاحال لاپتا ہیں۔ انڈونیشین حکام کے مطابق کشتی میں سوار 11 افراد میں سے سات کو بچا لیا گیا، جبکہ تیز لہروں کے باعث سرچ آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔