بڑھتی آبادی: پاکستان کے وسائل اور ماحولیات کیلئے چیلنج کیسے؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
پاکستان کی آبادی میں اضافے کی موجودہ صورتحال ایک خاموش بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ 2017 میں پاکستان کی آبادی 207.68 ملین تھی جو محض 6 سال کے قلیل عرصے میں بڑھ کر 2023 میں 241.5 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ آبادی میں اضافے کی یہ شرح 2.55 فیصد ہے جو نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر اضافے کی یہی رفتار برقرار رہی تو ماہرینِ عمرانیات کو خدشہ ہے کہ 2050 تک پاکستان کی آبادی موجودہ حجم سے دگنی ہو جائے گی۔ یہ کوئی اچانک پیدا ہونے والا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ دہائیوں کی اس غفلت کا نتیجہ ہے جس کے تحت ہم نے آبادی کے مسئلے کو قومی سلامتی کا مسئلہ تسلیم نہیں کیا۔ آج پاکستان دنیا کے پانچ بڑے آبادی والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے، جہاں وسائل محدود اور ضرورت مندوں کی تعداد زیادہ ہے۔
پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں تقریباً ہر دورِ حکومت میں ہی آبادی پر قابو پانے کے حوالے سے مختلف مہمات چلائی گئیں، دلکش سلوگنز اور نعرے وضع کیے گئے، لیکن ان مہمات کا اثر برائے نام رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ حکومتوں نے کبھی بھی آبادی کو ایک سنجیدہ وجودی خطرے کے طور پر نہیں لیا۔ ان مہمات میں تسلسل کی کمی اور سیاسی ترجیحات کا نہ ہونا خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں رکاوٹ بنا رہا۔ تاہم گزشتہ ایک دہائی سے پاپولیشن کونسل جیسے اداروں کی مسلسل جدوجہد اور ڈیٹا پر مبنی تحقیق کی بدولت اب یہ صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ آج آبادی کا مسئلہ میڈیا کے ٹاک شوز، مذہبی مباحثوں، عوامی حلقوں اور حکومتی ایوانوں میں ایک اہم موضوع بن کر ابھرا ہے۔ یہ تبدیلی خوش آئند ہے کیونکہ آگاہی ہی حل کی پہلی سیڑھی ہے۔
حکومتی سطح پر یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ بڑھتی آبادی بالکل ویسا ہی چیلنج ہے جیسا کہ موسمیاتی تبدیل۔ چند سال پہلے تک پاکستان میں کلائمیٹ چینج کو ایک عام موسمی معمول سمجھا جاتا تھا، لیکن جب عالمی سطح پر اس کے اثرات واضح ہوئے اور پاکستان کو دنیا کے متاثرہ ترین ممالک میں شمار کیا جانے لگا تو ہماری آنکھیں کھلیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی کہ اگر ہم نے فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بند نہ کی اور بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کو ماحولیاتی وسائل کے مطابق نہ ڈھالا تو تباہی مقدر بن جائے گی۔ اب حکومت نے کلائمیٹ چینج اور آبادی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو مسقتبل کے چیلنج قرار دے کر ان پر سنجیدگی سے کام شروع کیا ہے۔
بڑھتی آبادی کے تعلیم پر اثرات
وسائل اور آبادی کے درمیان عدم توازن کا سب سے ہولناک منظر تعلیمی شعبے میں نظر آتا ہے۔ سال 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اس وقت اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جسے ملک کا بوجھ نہیں بلکہ اثاثہ بننا تھا، لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے یہ بچے اسکول کی دہلیز تک نہیں پہنچ سکے۔ اگر آبادی کی موجودہ شرح جاری رہی تو 2050 تک ان اسکول سے باہر رہنے والے بچوں کی تعداد دگنی ہو جائے گی۔ لیبر فورس سروے کے مطابق 2040 تک پاکستان میں 57 ہزار پرائمری سکولوں کی ضرورت ہو گی۔
بڑھتی آبادی کے روزگار پر اثرات
پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جسے ’’ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ‘‘ کہا جا سکتا تھا، لیکن مناسب منصوبہ بندی کے بغیر یہی نوجوان اب ایک چیلنج بن رہے ہیں۔ سال 2025 میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد 2 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ پاپولیشن کونسل کی رپورٹ کے مطابق 2040 تک ملک کو مزید 10 کروڑ 40 لاکھ نئی نوکریوں کی ضرورت ہو گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری معیشت اتنی وسعت رکھتی ہے کہ وہ ہر سال لاکھوں نئے نوجوانوں کو روزگار فراہم کر سکے؟
پانی کے ذخائر اور آبادی کا کیا تعلق ہے؟
پانی زندگی کی بنیاد ہے، لیکن پاکستان اس وقت پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی ’’ایشین واٹر ڈویلپمنٹ آؤٹ لک 2025‘‘ کے مطابق پاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ فی کس پانی کی دستیابی جو کبھی وافر تھی، اب تیزی سے گر کر 1100 مکعب میٹر رہ گئی ہے۔ یہ صورتحال ملک کو ’’واٹر اسٹریس ‘‘ سے نکال کر ’’واٹر اسکارسٹی‘‘ کی طرف لے جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگلے دس سالوں میں پانی کے انتظام اور گورننس کے لیے 35 سے 42 بلین ڈالر کی ضرورت ہو گی۔ پانی کی کمی نہ صرف زراعت کو تباہ کر رہی ہے بلکہ گندے پانی کے استعمال سے مہلک بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔
بڑھتی آبادی کے صحت پر اثرات
آبادی کا بوجھ صحت کے ڈھانچے کو بری طرح مفلوج کر چکا ہے۔ نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات کے حوالے سے پاکستان کا شمار دنیا کے بدترین ممالک میں ہوتا ہے۔ یونیسف کے مطابق ہر ایک ہزار میں سے 62 بچے اپنی پہلی سالگرہ دیکھنے سے پہلے ہی وفات پا جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ 40 فیصد بچے اسٹنٹنگ (قد میں کمی) کا شکار ہیں، 18 فیصد شدید غذائی قلت اور 29 فیصد وزن میں کمی کا شکار ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایک ایسے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں جو اپنے بچوں کو بنیادی خوراک اور صحت دینے سے قاصر ہے۔
بڑھتی آبادی کے ماحول پر اثرات
وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی ماحولیات کو بھی نگل رہی ہے۔ شہروں کے پھیلاؤ کے لیے زرعی زمینیں ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل ہو رہی ہیں، جنگلات کا صفایا کیا جا رہا ہے اور صنعتوں کا فضلہ آبی ذخائر کو زہر آلود کر رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی ٹریفک اور توانائی کی طلب کی وجہ سے کاربن کے اخراج میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس سے گلوبل وارمنگ اور اسموگ جیسے مسائل نے جنم لیا ہے۔ اگر آبادی کے پھیلاؤ اور وسائل کے استعمال میں توازن نہ لایا گیا تو پاکستان کا قدرتی ماحولیاتی نظام مکمل طور پر زمین بوس ہو سکتا ہے۔
بڑھتی آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے مثبت پیش رفت
خوش قسمتی سے اب ریاستی سطح پر اس خطرے کا ادراک کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے حال ہی میں اس بحران کی سنگینی کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان کی آبادی میں ہر سال ایک پورے نیوزی لینڈ کا اضافہ ہو رہا ہے‘‘۔ یہ بیان اس رفتار کو سمجھنے کے لیے کافی ہے جس سے ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح وزیر خزانہ نے آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کو پاکستان کے دو بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ آبادی کا دباؤ معاشی استحکام کی راہ میں اہم رکاوٹ ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی آبادی کے عالمی دن کے موقع پر اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کا انتظام عوامی وسائل اور حکمرانی کے نظام پر زبردست دباؤ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ایک جامع اور حقوق پر مبنی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے، جس میں خاندانی منصوبہ بندی اور صحت کی دیکھ بھال تک مساوی رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
پاپولیشن کونسل اور دیگر اداروں کی محنت سے اب یہ مسئلہ پالیسی سازوں کے میز تک پہنچ چکا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں اسے شامل کر رہی ہیں اور بجٹ سازی کے دوران بھی آبادی کے پہلو کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ ایک مثبت آغاز تو ہے، لیکن کافی نہیں ہے۔ جب تک یونین کونسل کی سطح تک عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، جب تک خواتین کی تعلیم اور معاشی خود مختاری پر توجہ نہیں دی جاتی اور جب تک ہر شہری اسے اپنا انفرادی مسئلہ نہیں سمجھتا، ہم وسائل اور آبادی میں توازن قائم نہیں کر سکیں گے۔
پاکستان کی بقا کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم کتنی جلدی اپنی آبادی کو اپنے وسائل کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ اگر ہم آج بھی خاموش رہے تو آنے والی نسلیں نہ صرف وسائل کی کمی کا شکار ہوں گی بلکہ وہ ایک ایسے بنجر اور آلودہ ماحول میں سانس لینے پر مجبور ہوں گی جہاں زندگی خود ایک بوجھ بن جائے گی۔
(ظفر سلطان)
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان کی ا بادی بڑھتی ا بادی کے بڑھتی ہوئی اور ا بادی وسائل اور جا رہا ہے ا بادی کا پر اثرات کے مطابق کا شکار دنیا کے جائے گی کی کمی رہی ہے کیا جا
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم