30 دسمبر سے 2 جنوری تک تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
محکمہ موسمیات نے کل 29 دسمبر سے ملک میں مغربی ہوائیں داخل ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کے زیرِ اثر علاقوں میں 30 دسمبر سے 2 جنوری تک تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارش سے اسموگ اور دھند میں کمی آئے گی۔
پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں شدید دھند کے سبب حد نگاہ متاثر ہونے پر موٹرویز کے مختلف سیکشنز بند کردیے گئے ہیں، جبکہ مختلف شہروں کی فضا آج بھی انتہائی آلودہ ہے۔
دوسری جانب پنجاب کے بیشتر علاقے آج بھی فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہیں۔
بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق لاہور کے علاقے کاہنہ نو میں سب سے زیادہ آلودگی ریکارڈ کی گئی۔ جہاں 568 پارٹیکولیٹ میٹرز ریکارڈ کیے گئے۔
گوجرانوالہ میں 487، فیصل آباد میں 452، لاہور میں 311 اور ملتان میں 262 پارٹیکولیٹ میٹر ریکارڈ کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔