بھارت کی آبی جارحیت، دریائے چناب پر متنازعہ پن بجلی منصوبے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
نئی دہلی: بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر دلہستی سٹیج ٹو پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں برس اپریل میں پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان کے ساتھ دہائیوں پرانے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر رکھا ہے.
واضح رہے کہ جب تک سندھ طاس معاہدہ فعال تھا، پاکستان کو سندھ، جہلم اور چناب کے دریاؤں پر حقوق حاصل تھے جبکہ انڈیا کو راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں کے استعمال کا حق دیا گیا تھا۔بھارتی حکومت نے دریائے چناب پر دلہستی سٹیج ٹو ہائیڈرو پاور منصوبے کی حتمی منظوری دی .جس پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں، یہ منصوبہ بھارت کے غیر قانونی قبضہ میں موجود جموں و کشمیر میں تعمیر کیا جائے گا اور اس سے 260 میگاواٹ تک بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔اس منصوبے پر مجموعی لاگت 3 ہزار 277 کروڑ 45 لاکھ بھارتی روپے آئے گی اور اس پر عملی کام آئندہ سال کے آغاز میں شروع کیے جانے کا امکان ہے. اس منصوبے کو بھارت کی سرکاری کمپنی این ایچ پی سی لمیٹڈ تیار کرے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دلہستی سٹیج ٹو منصوبہ پاکستان کے لیے دفاعی اور تزویراتی لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ دریائے چناب پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں میں شامل ہے. اس منصوبے کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہے.جسے بھارت نے حال ہی میں یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔دلہستی سٹیج ٹو منصوبے میں دلہستی سٹیج ون کے موجودہ ڈھانچے کو استعمال کیا جائے گا. 390 میگاواٹ کا دلہستی سٹیج ون منصوبہ 2007 میں مکمل ہوا تھا اور یہ رن آف دی ریور سکیم کے تحت چل رہا ہے.نئے مرحلے میں اسی ڈیم، ذخیرۂ آب اور پاور انٹیک کو استعمال کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے دلہستی سٹیج ٹو دریائے چناب پاکستان کے منصوبے کی
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔