سعودی عرب کے وزیرِ داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف نے مسجد الحرام میں فرائض کی انجام دہی کے دوران زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکار سے رابطہ کرکے اس کی بہادری اور فرض شناسی کو سراہا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک شخص نے مسجد الحرام کی بالائی منزل سے چھلانگ لگانے کی کوشش کی، تاہم ڈیوٹی پر موجود سیکیورٹی اہلکار نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس کی جان بچا لی۔

یہ بھی پڑھیے: ایک ماہ میں حرمین شریفین کی زیارت کرنے والوں کی تعداد 6 کروڑ 90 لاکھ سے تجاوز کر گئی

سعودی حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بروقت مداخلت کرکے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔ مکہ مکرمہ ریجن کی امارت کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ مسجد الحرام کی سیکیورٹی کے خصوصی دستے نے فوری طور پر کارروائی شروع کی، جبکہ ایک سیکیورٹی اہلکار اس شخص کو زمین پر گرنے سے بچانے کی کوشش میں زخمی ہو گیا۔

وزیرِ داخلہ نے زخمی اہلکار، سپاہی ریان بن سعید بن یحییٰ الاحمد سے ٹیلی فون پر بات کی اور ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ اہلکار کو متعدد چوٹیں آئیں، تاہم طبی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور دونوں افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

شہزادہ عبدالعزیز نے سپاہی ریان کی جرات، مستعدی اور بلند پیشہ ورانہ شعور کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام محض ڈیوٹی نہیں بلکہ ایک اعلیٰ انسانی فریضہ اور بے لوث قربانی کی مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات سیکیورٹی فورسز کی غیر معمولی تیاری اور صلاحیتوں کا ثبوت ہیں، جو اسلام کے مقدس ترین مقام پر ہر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ’تم آسٹریلیا کے ہیرو ہو‘ وزیرِاعظم انتھونی البانیز کی سڈنی کے ہیرو احمد الاحمد سے اسپتال میں ملاقات کی

وزیرِ داخلہ نے سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے سعودی قیادت کی مکمل سرپرستی اور تعاون کا بھی ذکر کیا، جو ان کی قربانیوں کے اعتراف اور بہتر کارکردگی کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے سپاہی ریان کی جلد صحت یابی اور دوبارہ ڈیوٹی پر واپسی کے لیے دعا بھی کی۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس بہادرانہ اقدام کو بھرپور سراہا گیا، جہاں صارفین نے اسے انسانیت اور فرض شناسی کی روشن مثال قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خراج تحسین خودکشی سعودی عرب مسجد الحرام.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: مسجد الحرام

پڑھیں:

بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔

ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے