2025 میں ٹیکنالوجی کی کونسی کمپنیاں سب سے قیمتی قرار پائیں؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
2025 کے دوران عالمی ٹیکنالوجی منظرنامے پر امریکی کمپنیوں کی بالادستی برقرار رہی، جہاں مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے سرفہرست اداروں نے غیر معمولی ترقی کا مظاہرہ کیا۔
صنعت سے وابستہ رپورٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور صارف ٹیکنالوجی کی مضبوط طلب اس تیزی کی بنیادی وجوہات رہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کا گوگل کی حمایت یافتہ کمپنی میں ضم ہونے کا اعلان
این ویڈیا 2025 میں دنیا کی سب سے قیمتی ٹیکنالوجی کمپنی کے طور پر ابھری، جس کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 4.
این ویڈیا کے بعد مائیکروسافٹ اور ایپل سرفہرست رہے، جن کی مالیت 3.6 سے 4 ٹریلین ڈالر کے درمیان رہی۔ ان کمپنیوں کی کامیابی میں کلاؤڈ سروسز، انٹرپرائز سافٹ ویئر میں ترقی اور آئی فون ایکو سسٹم سے حاصل ہونے والی مسلسل آمدنی نے اہم کردار ادا کیا۔
الفابیٹ اور ایمیزون نے بھی ٹاپ فائیو میں اپنی جگہ برقرار رکھی، جہاں ڈیجیٹل اشتہارات، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ای کامرس نے معاشی اتار چڑھاؤ کے باوجود مضبوط کارکردگی دکھائی۔ میٹا پلیٹ فارمز اے آئی کو سماجی مصنوعات میں شامل کرنے کے باوجود چھٹے نمبر پر رہا۔
یہ بھی پڑھیے: چیٹ جی پی ٹی صارفین کیا تلاش کرتے ہیں؟ اوپن اے آئی کا بڑا انکشاف
سعودی آرامکو مارکیٹ کیپ کے لحاظ سے سب سے بڑی توانائی کمپنی بنی رہی، جسے مستحکم تیل کی قیمتوں اور توانائی کی مضبوط طلب کا سہارا حاصل رہا۔ ٹاپ 10 کی فہرست میں براڈکوم، تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی (TSMC) اور ٹیسلا بھی شامل رہیں، جو سیمی کنڈکٹرز اور الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق 2025 میں ترقی کے بڑے محرکات میں اے آئی کا فروغ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی توسیع اور صارف ٹیکنالوجی کی مستحکم طلب شامل رہی، تاہم ریگولیٹری دباؤ، سپلائی چین مسائل، معاشی غیر یقینی صورتحال اور بڑھتا ہوا مسابقتی ماحول چیلنجز کے طور پر موجود رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا اے آئی ٹیکنالوجی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا اے آئی ٹیکنالوجی اے آئی
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔