سکھر: ڈاکوئوں کے خلاف پولیس اوررینجرز کا مشترکہ آپریشن
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت)وفاقی سول انٹیلی جنس ایجنسی کی مدد سے ڈاکوؤں کیخلاف سکھر رینج، ضلع گھوٹکی پولیس اور سندھ رینجرز کی مشترکہ کارروائی ،11 اغوا شدہ مغوی باحفاظت بازیاب۔ ترجمان رینج پولیس کے مطابق چند ہفتہ قبل ڈاکووں/اغواء کاروں نے پنجاب کے مختلف علاقوں سے 11 افراد کو نسوانی آواز،سستی گاڑی اور دیگر طریقوں سے دھوکے سے بلوا کر اغواء؎ کیا تھا، اغواء کاروں نے بعد میں جن سے تاوان طلب کیا تھا،وہ مغوی دورانِ آپریشن ڈاکوؤں کے چنگل سے پولیس مقابلے میں باحفاظت بازیاب کروا لئے گئے۔ ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی سربراہی میں گھوٹکی پولیس کی شاندار ٹارگٹڈ کارروائی اس کے علاوہ سندھ رینجرز بھی اس مشترکہ کاروائی میں شامل تھی۔ایس ایس پی کشمور اور وفاقی سول انٹیلی جنس ایجنسی کے تعاون و مدد سے مغویوں کی باحفاظت بازیابی ممکن ہوئی،بحفاظت بازیاب کرائے گئے مغویوں میں مشتاق احمد، علمدار حسین ، حسن نواز، علی حسین، منصب علی سکنہ پھول نگر پتوکی ضلع قصور، محمد اسحاق سکنہ قلعہ دیدار سنگھ ضلع گجرانوالہ.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اغواء کاروں
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔