بالی ووڈ کے سنجیدہ اور باوقار اداکار اکشے کھنہ ایک بار پھر خبروں میں ہیں مگر اس بار وجہ ان کی اداکاری نہیں بلکہ ایک بڑا قانونی تنازع ہے۔

فلم ’دھرندھر‘ اکشے کھنہ کی بلاک بسٹر فلموں میں سے ایک فلم ثابت ہوئی جس میں سنجے دت اور رنویر سنگھ کی پاور فل ایکشن پرفارمنس کے باوجود سب سے زیادہ پذیرائی انھیں ملی ہے۔

اس فلم کی شاندار کامیابی کے بعد عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنے والے اکشے کھنہ کے حوالے سے ایک چونکا دینے والی خبر سامنے آئی تھی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اکشے کھنہ نے اجے دیوگن کی بلاک بسٹر فرنچائز ’دریشم‘ کے تیسرے سیکوئل میں کام کرنے سے صرف ایک ٹیکسٹ میسج کے ذریعے انکار کر دیا تھا۔

اکشے کھنہ نے یہ حرکت اس وقت کی جب وہ ’دھرندھر‘ کی باکس آفس کامیابی کے خمار میں تھے اور ان کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔

جس پر ’دریشم 3‘ کے پروڈیوسر کمار منگت پاٹھک نے اکشے کھنہ کے اس رویے کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔

قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اکشے کھنہ نے گزشتہ ماہ باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ فلم کے پروڈیوسر نے انھیں ایڈوانس رقم بھی ادا کردی تھی ان کا معاوضہ تین مرتبہ مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔

پروڈیوسر کمار منگت پاٹھک نے بھارتی میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ہم دو سال سے دریشم 3 پر کام کر رہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اکشے کو فلم کی مکمل اسکرپٹ بھی سنائی گئی تھی جو انھیں بے حد پسند بھی آئی تھی۔

تاہم انھوں نے معاہدے پر دستخط ہونے اور سائننگ اماؤنٹ لینے کے بعد فلم میں کام کرنے سے اچانک منع کردیا جو ہمارے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

پروڈیوسر کا کہنا ہے کہ اکشے کھنہ کا کردار فلم کے لیے نہایت اہم تھا کیونکہ وہ ’دریشم 2‘ میں بھی نمایاں کردار ادا کر چکے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان کی اچانک علیحدگی سے فلم کی پلاننگ، شوٹنگ شیڈول اور تسلسل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

تاحال اکشے کھنہ نے اس قانونی نوٹس پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا جس سے شوبز حلقوں میں تجسس مزید بڑھ گیا۔

مداح یہ جاننے کے منتظر ہیں کہ آیا اکشے اپنا مؤقف سامنے لائیں گے یا یہ معاملہ عدالت کی دہلیز تک جائے گا۔

یاد رہے کہ اکشے کھنہ نے ’دریشم 2‘ میں انسپکٹر جنرل کا کردار نبھایا تھا جسے شائقین اور ناقدین نے بے حد سراہا تھا۔

یہ فلم 18 نومبر 2022 کو ریلیز ہوئی تھی اور سپر ہٹ ثابت ہوئی۔

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اکشے کھنہ نے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار