Jasarat News:
2026-06-02@22:14:07 GMT

HBWWFکی تحریکی شہداء کی یاد میں تقریب

اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251229-06-5
آج سے کچھ عرصے قبل تک یہ تصور بھی محال تھا کہ گھر میں کام کرنے والے مزدوروں کو بھی روایتی مزدوروں کے برابر معاشرے میں مقام مل سکے گا جبکہ صرف گھر میں کام کرنے والی خواتین کے لیے تو یہ ایک سہانا خواب ہی تھا لیکن چند نظریاتی لوگوں نے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کی ٹھانی اور اپنے دن رات اس عظیم مقصد کی تکمیل میں صرف کردیے اور آج یہ عظیم خواب ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن اور اس سے الحاق شدہ یونینز کی صورت میں ایک زندہ و جاوید حقیقت کی صورت میں موجود ہے۔اس عظیم کامیابی میں جہاں دیگر ساتھیوں کی شبانہ روز کی انتھک محنت شامل ہے وہیں نجمہ خانم ، ثریا کوثر، عبدالسلام اور واحد بلوچ کی شہادت کا بڑا دخل ہے۔ جنہوں نے آج سے 16 سال قبل اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر گھر مزدور خواتین کی تحریک کو ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی صورت میں حقیقت کا روپ دیا۔ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن ہر سال 13 دسمبر کو اپنی اس تحریک کے شہداء کی قربانیوں کو یاد کرنے کے لیے ایک یادگاری پروگرام کا انعقاد کرتی ہے۔
اس سال بھی ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کے ہیڈ آفس میں خواتین گھر مزدور تحریک کے شہداء کی یاد میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں کراچی بھر سے خواتین گھر مزدور خواتین کی بڑی تعداد کے علاوہ اس تحریک کے اولین قائدین و کارکنان ثمینہ، میمونہ، جمیلہ، شمیم، پروین بانو، انیسہ، رفیق بلوچ، سجاد ظہیر ، زہرا خان شامل تھے جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض اقصیٰ کنول نے انجام دیے۔
مقررین نے جہاں شہداء کی خدمات پر روشنی ڈالی وہیں موجودہ نظام کی مزدور دشمن روش پر بھی کھل کر اظہار خیال کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں ملک میں موجود قومی سطح کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں میں مزدور مسائل و حقوق سے چشم پوشی کو ظالمانہ عمل قرار دیا۔ مقررین نے بالخصوص سندھ میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ اور لسانی تقسیم سے مزدور طبقے کو لاحق خطرات پر بات کی اور مزدوروں کو ہر قسم کی تقسیم سے بالاتر ہوکر متحد رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ویب ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شہداء کی

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل