گورنمنٹ اسپتالوں میں مستحق مزدوروں کی رسائی کامشکل مرحلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-06-6
پاکستان ایک آزاد مملکتِ خداوند ہے لیکن موجودہ حالات کی سنگینی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستانی مزدوروں کا دل خون کے آنسوں روتا ہے۔ دنیا جدید ترین ٹیکنالوجی کی جانب تیزی سے گامزن ہے لیکن اس کے برعکس پاکستان میں نظام کے ہوتے ہوئے بھی بد انتظامی عروج پر ہے۔ حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ مزدوروں کے حقوق پر بات کرنے والوں کی زبانیں اور قلم دونوں پر طرح طرح کی قید لگائی جارہی ہے۔ مزدوروں کے مسائل پر یوں تو بہت شور کیا جاتا ہے لیکن کیا واقعی سندھ گورنمنٹ مزدوروں کے مسائل کو حل کر پائی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آپ کو گورنمنٹ تو دے نہیں سکتی مگر گورنمنٹ کے اسپتالوں میں دھکے کھاتے مزدور ضرور دے سکتے ہیں۔ اگر کوئی مزدور اپنے کسی گھر والے کو اسپتال میں داخل کروانے جاتا ہے تو پہلے پہل تو اس کا حلیہ دیکھ کر اسے کوئی منہ ہی نہیں لگاتا، چہ جائیکہ علاج معالجہ شروع کیا جائے یہ پوچھا جاتا ہے کس نے بھیجا ہے۔ پھر اگر کسی سے کہہ سن کر اسپتال میں جمع کر بھی لیا جائے تو ہر طرح کے ٹیسٹ کروانے کے لیے اس کی دوڑیں لگوا دی جاتی ہیں۔ پھر اولین کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایک دن میں ہی مریض کو گھر بھیج دیا جائے اور اگر مریض کی حالت غیر ہے تو پھر وراثیٰ کو
دلاسہ دینے کے بجائے آپریشن کا خرچ گنوا دیا جاتا ہے۔ اب بھلا ایک مزدور 40ہزار ماہانہ تنخواہ کمانے والا کہاں سے اپنے گھر والوں کا آپریشن کروائے گا؟ اور اگر پینل پر کوئی اسپتال آتا ہے تو ادارے کے کھاتے میں لاکھوں کا بل بنادیا جاتا ہے۔ اس عمل کی نہ کوئی اسکروٹنی ہوتی ہے اور نہ ہی کسی کو کوئی فرق پڑتا ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ ڈیلیوری کیس میں بھی بیچارہ مزدور محلے میں آس پڑوس کی دائی وغیرہ سے رجوع کر رہے ہوتے ہیں ورنہ اسپتال والے ڈرا دھمکا کر عام طور پر زبردستی سیزیرین سیکشن کا کیس بنا دیتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نارمل کیس میں اسپتال پیسہ زیادہ نہیں کمائے گا اور اسپتال کی فارمیسی کا بھی حساب پورا نہیں ہوگا۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ انسانی جان آج کل گورنمنٹ اسپتالوں میں پیسوں میں تولی جارہی ہیں۔ یہ بات منسٹری آف ہیلتھ جانتی بھی ہے کہ ایک مزدور کی تنخواہ اسپتالوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے مکمل طور پر ناکافی ہے مگر بجٹ پیش کرتے وقت اس بات کو لانا تو دور کی بات اس پر سوچا ہی نہیں جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ مزدوروں کے گھروں میں بیماری اگر آجائے تو گھرانہ قرضوں تلے کچل جاتا ہے۔ گورنمنٹ اسپتالوں کو مزدور طبقے کے لیے بنا کسی جان پہچان کے داخلہ دینا چاہیے اور پرائیویٹ این جی اوز کی طرف دیکھنے کے بجائے بجٹ میں سے بھاری پروٹوکول اور مہنگی ترین گورنمنٹ کی گاڑیوں کا خرچ اگر مزدوروں کی فلاح و بہبود پر مختص کردیا جائے تو حالات پھر بھی بہت بہتر ہوسکتے ہیں۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ غریب مزدوروں کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کو ہی صاحبِ اختیار لائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مزدوروں کے جاتا ہے کے لیے
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے