وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری آمرانہ سوچ ر کھتی ہیں ‘شفیع جان
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-08-7
لاہور (مانیٹر نگ ڈ یسک )خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی شفیع جان نے پنجاب کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری کے سہیل آفریدی کو لاہور سے واپس جانے کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اس سے آمرانہ سوچ قرار دے دیا اور کہا ہے کہ وفاق اور پنجاب کے حکمران جان لیں سہیل آفریدی کی قیادت میں اسٹریٹ موومنٹ شروع ہوچکی ہے۔خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی شفیع جان نے عظمیٰ بخاری کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو پنجاب چھوڑنے کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عظمیٰ بخاری کا بیان غیر جمہوری اور آمرانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، حکومت پنجاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورہ لاہور سے خوفزدہ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔شفیع جان نے کہا کہ عظمیٰ بخاری اور قومی دولت لوٹنے والا ٹولہ پنجاب کے غیرت مند اور مہمان نواز عوام کا حقیقی نمائندہ نہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دورہ جعلی پنجاب حکومت کے ظلم کا شکار کارکنوں اور ان کے اہل خانہ سے اظہار یک جہتی کے لیے تھا۔انہوں نے کہا کہ عظمیٰ بخاری جواب دیں، وزیراعلیٰ کے دورے پر لاہور فوڈ اسٹریٹ اور تجارتی مراکز زبردستی کیوں بند کرائے گئے، حکومت پنجاب کے خوف کے سوا ہمیں پولیس رکاوٹیں اور بند سڑکیں ہی نظر آئیں۔ان کا کہنا تھا کہ عوام پر ظلم و جبر کی کرپٹ حکومت پنجاب کی تاریخ گواہ ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی آمد پر زندہ دلان لاہور نے شان دار استقبال کیا لیکن ہمیں خدشہ ہے حکومت پنجاب کارکنوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے گی۔شفیع جان نے کہا کہ کارکنوں پر چھاپے اور چادر و چار دیواری کی پامالی جعلی حکومت پنجاب کا وطیرہ ہے، وفاق اور پنجاب پر مسلط جعلی حکمران جان لیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں اسٹریٹ موومنٹ شروع ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں اسٹریٹ موومنٹ صرف ٹریلر تھا، ملک کے کسی بھی حصے میں جانا اور سیاسی سرگرمیاں کرنا ہر جماعت کا آئینی، جمہوری اور قانونی حق ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی کی حکومت پنجاب شفیع جان نے نے کہا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔