بنگلا دیش میں طارق الرحمان کو واپس بلانے کا مقصد کیا ہے
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
طالب علم رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہرے۔ اور ان مظاہروں سے طارق الرحمان جیسے مورثی سیاست دان بھر پور فائد ہ اُٹھانے کی کو شش کرر ہے ہیں۔
عالمی اخبارات اور شاید اسٹیبلشمنٹ یہ بتا رہے ہیں کہ بنگلہ دیشی وزارت عظمیٰ کے امیدوار طارق الرحمان 18 سال بعد ڈھاکہ پہنچ گئے۔ جی ہاں اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ فروری میں ہونے والے انتخابات سے قبل عثمان ہادی کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کا شور حقیقت اور افسانہ دونوں ہی اور یو سکتا ہے ۔
بنگلہ دیش کے سیاسی ہیوی ویٹ اور مستقبل کے ممکنہ وزیر اعظم بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے نائب صدر طارق الرحمان 18 سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد جمعرات کو وطن پہنچے۔
دارالحکومت ڈھاکہ کے بین الاقوامی ایئر پورٹ پر پارٹی کارکنوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔
سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے بظاہر وارث، طارق الرحمان کا ڈھاکہ ہوائی اڈے پر پارٹی رہنمائوں نے استقبال کیا۔
وہ اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان ڈھاکہ پہنچے۔
جمعرات کی صبح سے ہی بی این پی کے حمایتی دارالحکومت ڈھاکہ میں جمع ہو رہے تھے، جہاں سڑکوں پر طارق الرحمان کی تصایور والے بینرز اور پلے کارڈز لگائے جا رہے تھے۔
لائوڈا سپیکرز سے قومی نغمات بج رہے تھے جبکہ کٹ آئوٹ میں رحمان کو گھوڑے پر سوار دکھایا گیا تھا۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قائم مقام چیئرمین طارق الرحمان 30 دسمبر 2023 کو جنوب مغربی لندن کے ایک پارک میں تصویر کے لیے پوز دے رہے ہیں (اے ایف پی)
رحمان 2008 میں بنگلہ دیش سے لندن چلے گئے تھے، جسے انہوں نے سیاسی ظلم و ستم قرار دیا تھا۔
بی این پی کے قائم مقام چیئرمین کے طور پر طارق الرحمان 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے ذریعے پارٹی کی قیادت کریں گے، جو کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے گذشتہ سال طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد سے علیحدگی کے بعد پہلے انتخابات ہیں۔
بی این پی کو بڑے پیمانے پر انتخابی دوڑ میں سب سے آگے دیکھا جاتا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اگر ان کی پارٹی اکثریت حاصل کرتی ہے تو رحمان کو وزیر اعظم کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
رحمان کی بیمار والدہ، 80 سالہ سابق رہنما خالدہ ضیا کا ڈھاکہ کے ایک ہسپتال میں علاج جاری ہے۔
طالب علم رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہرے۔ اور ان مظاہروں سے طارق الرحمان جیسے موروثی سیاست دان بھر پور فائد ہ اُٹھانے کی کو شش کرر ہے ہیں۔
اپنی خرابی صحت اور قید کے باوجود، خالدہ ضیا نے نومبر میں آئندہ انتخابات میں مہم چلانے کا عزم کیا۔
لیکن یہ عہد کرنے کے فوراً بعد اسے ہسپتال میں داخل کر دیا گیا اور تب سے وہ انتہائی نگہداشت میں ہے۔
طارق الرحمان کی واپسی مقبول طالب علم رہنما عثمان ہادی کے قتل پر حالیہ بدامنی کے بعد ہوئی ہے، جو انڈیا کے سخت ناقد تھے اور جنہوں نے گذشتہ سال کی عوامی بغاوت میں حصہ لیا تھا۔
32 سالہ عثمان ہادی کو اس ماہ ڈھاکہ میں نقاب پوش حملہ آوروں نے گولی مار دی تھی اور بعد میں وہ سنگاپور کے ایک ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے۔
ان کی موت نے بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں کا آغاز کیا جن میں ہجوم نے کئی عمارتوں کو نذر آتش کیا، جس میں دو بڑے اخبارات جو انڈیا کے حق میں سمجھے جاتے ہیں، نیز ایک ممتاز ثقافتی ادارہ بھی شامل تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عثمان ہادی کے قتل طارق الرحمان بنگلہ دیش بی این پی ہے ہیں کے بعد
پڑھیں:
آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام
یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔
ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ
ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان