کراچی، لوٹ مار کرنے والا ڈاکو عوام کے ہتھے چڑھ گیا، بدترین تشدد کے بعد پولیس کے حوالے
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
شہر قائد کے علاقے ملیر جامعہ ملیہ غزالی گراؤنڈ کے قریب عوام نے ایک مبینہ ڈاکو کو پکڑ کر تشدد کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا۔
ترجمان کراچی پولیس کے مطابق زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت خلیل ولد احمد دیں کے نام سے ہوئی ہے۔
ملزم عوام کے تشدد اور فائرنگ کے نتیجے میں گولی لگنے سے زخمی ہوا۔ اور اس ہی حالت میں پہس کے حوالے کیا گیا۔
اطلاع ملنے پر تھانہ الفلاح کی پولیس موقع پر پہنچی اور ملزم کو تحویل میں لے لیا۔ پولیس نے ملزم کے قبضے سے پستول برآمد کر لیا، جبکہ زخمی ملزم کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ اس کے سابقہ کرمنل ریکارڈ اور ممکنہ دیگر وارداتوں کے حوالے سے بھی ریکارڈ چیک کیا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سری لنکا کیساتھ ٹی20 سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان اہم کھلاڑی کی واپسی Dec 28 2025 09 20 AM کے حوالے پولیس کے
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔