لاکھوں روپے کے موبائل چند ہزار روپے میں، اس کی حقیقت کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
سوشل میڈیا پر مختلف موبائل فونز کا کاروبار کرنے والے بیوپاریوں کی جانب سے ویڈیوز سامنے آتی رہتی ہیں جس میں صارفین کو مہنگے آئی فون اور سام سنگ جیسے برانڈز کے لاکھوں روپے والے موبائل فونز کو چند ہزار روپے میں بتایا جاتا ہے۔
ویڈیوز میں نظر آنے والے موبائل فونز بظاہر اصل دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے اصل کا یقین اس لیے نہیں آتا کیوں کہ ان کی قیمت اصل قیمت کے 10 فیصد بھی نہیں ہوتی۔
ان موبائل فونز کی اصل مارکیٹ کراچی کی شیر شاہ کباڑی مارکیٹ ہے، جہاں کی ویڈیوز بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں اس کاروبار کی کئی دکانیں موجود ہیں۔
شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں عیسیٰ خان اسی کاروبار سے منسلک ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن نہیں کہ 3 سے 4 لاکھ روپے کا موبائل فون 30 ہزار روپے میں ملے۔ 30 ہزار میں ملنے والا فون اصل نہیں بلکہ کاپی ہوتی ہے، اور یہ موبائل فونز پاکستان میں ہی بنتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ شکل و صورت میں تو اصل کی طرح ہوتے ہیں لیکن اندر سے کچھ اور ہوتے ہیں۔
اسی مارکیٹ میں استعمال شدہ لیپ ٹاپس بھی کم قیمت پر بیچے جاتے ہیں۔ ان لیپ ٹاپس کے بارے میں شیر احمد کا کہنا ہے کہ یہ امپورٹڈ لیپ ٹاپ ہوتے ہیں جو کم قیمت پر دستیاب ہوتے ہیں۔ ’یہ باہر سے آنے والے اچھے لیپ ٹاپ ہوتے ہیں جن کی ڈبہ پیک قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن یہاں یہ کم قیمت پر مل جاتے ہیں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews چند ہزار لاکھوں روپے موبائل فونز وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لاکھوں روپے موبائل فونز وی نیوز موبائل فونز ہوتے ہیں
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔