کوبالٹ سے سیزیم تک: بھارت میں نیوکلیئر نگرانی کی ناکامیوں کی کہانی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
بھارت میں نیوکلیئر اور ریڈیواکٹو مواد سے متعلق پیش آنے والے متعدد واقعات اب محض انفرادی غفلت نہیں رہے، بلکہ ایک ایسے تسلسل کی صورت اختیار کر چکے ہیں جو ریاستی نگرانی، انوینٹری مینجمنٹ اور فضلے کے تصرف کے پورے نظام پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں حساس ریڈیواکٹو مواد کا غیر مجاز طور پر اسکریپ مارکیٹ تک پہنچ جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حفاظتی فریم ورک اور عملی نفاذ کے درمیان واضح خلا موجود ہے۔
2010 میں دہلی کے علاقے مایاپوری میں کوبالٹ-60 کے ایک ریڈیواکٹو سورس کا اسکریپ میں فروخت ہونا ایک بڑا واقعہ تھا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد متاثر ہوئے اور ایک شخص کی ہلاکت بھی رپورٹ ہوئی۔ اس واقعے نے نہ صرف ادارہ جاتی غفلت کو بے نقاب کیا بلکہ نیوکلیئر فضلے کے انتظام کے نظام کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسی طرح 2019 میں آندھرا پردیش میں سیزیم-137 کا ایک لاپتہ سورس ایک اسکریپ ڈیلر کے پاس سے برآمد ہوا، جو اس بات کی علامت تھا کہ حساس مواد کی ٹریکنگ اور انوینٹری مینجمنٹ مؤثر نہیں۔ بین الاقوامی سطح پر، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے واقعاتی ریکارڈ میں بھی بھارت سے متعلق متعدد رپورٹس درج ہیں، جو ان مسائل کے تسلسل کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ قوانین کی عدم موجودگی نہیں بلکہ ان پر غیر مستقل عملدرآمد ہے، جس کے باعث ایسے واقعات اکثر اتفاقیہ دریافت ہوتے ہیں، نہ کہ بروقت نگرانی کے نتیجے میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
وزیراعلیٰ پنجاب(chief minister punjab) کی ہدایات پر تمام کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری تاکہ برساتی نالوں کی صفائی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل رکھے جائیں؛ ترجمان پی ڈی ایم اے
پنجاب کے میدانی اور بالائی علاقوں میں چند روز سے جاری شدید گرمی کے بعد اب بیشتر اضلاع میں طوفانی ہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کی اہم پیشگوئی جاری کی ہے
بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، جہلم، چکوال، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال اور شیخوپورہ، سرگودھا، میانوالی، خوشاب، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد، جھنگ و گردونواح، لاہور، اوکاڑہ، بھکر اور لیہ میں بارشوں کا امکان ہےْ
جس کے باعث وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات کے پیشِ نظر صوبے بھر کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ برساتی نالوں کی صفائی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل رکھے جائیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید نے خراب موسم کے دوران شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی ہے کہ شہری آسمانی بجلی سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات کے اندر رہیں اور گرج چمک کے دوران کھلے مقامات یا درختوں تلے ہرگز کھڑے نہ ہوں۔
کسان اپنی فصلوں کی کٹائی اور سنبھال سمیت تمام تر پیشگی اقدامات موجودہ موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں، مری، گلیات اور شمالی علاقہ جات کے سفر پر روانہ ہونے والے سیاح موسم کی شدت کو دیکھتے ہوئے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
مزید پڑھیں:شہری پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں
کسی بھی بھی ناگہانی یا ایمرجنسی صورتحال کی صورت میں شہری فوری طور پر پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔