بھارت میں نیوکلیئر اور ریڈیواکٹو مواد سے متعلق پیش آنے والے متعدد واقعات اب محض انفرادی غفلت نہیں رہے، بلکہ ایک ایسے تسلسل کی صورت اختیار کر چکے ہیں جو ریاستی نگرانی، انوینٹری مینجمنٹ اور فضلے کے تصرف کے پورے نظام پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں حساس ریڈیواکٹو مواد کا غیر مجاز طور پر اسکریپ مارکیٹ تک پہنچ جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حفاظتی فریم ورک اور عملی نفاذ کے درمیان واضح خلا موجود ہے۔

2010 میں دہلی کے علاقے مایاپوری میں کوبالٹ-60 کے ایک ریڈیواکٹو سورس کا اسکریپ میں فروخت ہونا ایک بڑا واقعہ تھا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد متاثر ہوئے اور ایک شخص کی ہلاکت بھی رپورٹ ہوئی۔ اس واقعے نے نہ صرف ادارہ جاتی غفلت کو بے نقاب کیا بلکہ نیوکلیئر فضلے کے انتظام کے نظام کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اسی طرح 2019 میں آندھرا پردیش میں سیزیم-137 کا ایک لاپتہ سورس ایک اسکریپ ڈیلر کے پاس سے برآمد ہوا، جو اس بات کی علامت تھا کہ حساس مواد کی ٹریکنگ اور انوینٹری مینجمنٹ مؤثر نہیں۔ بین الاقوامی سطح پر، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے واقعاتی ریکارڈ میں بھی بھارت سے متعلق متعدد رپورٹس درج ہیں، جو ان مسائل کے تسلسل کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق مسئلہ قوانین کی عدم موجودگی نہیں بلکہ ان پر غیر مستقل عملدرآمد ہے، جس کے باعث ایسے واقعات اکثر اتفاقیہ دریافت ہوتے ہیں، نہ کہ بروقت نگرانی کے نتیجے میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا