کرسمس پر توڑ پھوڑ، بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و ستم نہایت تشویشناک ہے: دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
کرسمس پر توڑ پھوڑ، بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و ستم نہایت تشویشناک ہے: دفتر خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 29 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھارت میں کرسمس پر توڑ پھوڑ کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و ستم نہایت تشویشناک امر ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت میں کرسمس کے موقع پر توڑ پھوڑ کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں، کرسمس کے موقع پر ایسے واقعات ریاستی سرپرستی میں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے، بھارت میں مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کیا جارہا ہےان تمام واقعات سے مسلمانوں میں خوف اور بیگانگی کا احساس مزید گہرا ہوا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ عالمی برادری کو اقلیتوں پر ظلم و ستم کے واقعات کا نوٹس لینا چاہئے، عالمی برادری بھارت میں اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے مناسب اقدامات کرے۔
خیال رہے کہ بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ 25 دسمبر کو بھارت کے مختلف حصوں میں کرسمس کی تقریبات کو ہندوتوا سے منسلک انتہا پسند عناصر کی جانب سے نشانہ بنایا گیا، متعدد مقامات پر مسیحی برادری کی مذہبی تقریبات میں مداخلت کی گئی اور سجاوٹ کو نقصان پہنچایا گیا۔
ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مطابق ریاست آسام کے ضلع نلباڑی میں واقع سینٹ میری سکول میں توڑ پھوڑ کی گئی جبکہ پانیگاؤں میں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد سے منسلک افراد پر تشدد اور ہنگامہ آرائی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں میگنیٹو مال میں کرسمس کے موقع پر کی گئی سجاوٹ کو نقصان پہنچایا گیا، ریاست کیرالہ کے ضلع پالکّاڈ میں بچوں کے کرسمس کیرول گروپ پر حملے کی بھی اطلاع دی گئی ہے، جس کا الزام ایک آر ایس ایس کارکن پر عائد کیا جا رہا ہے۔
ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلم اور مسیحی برادری کے خلاف پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے، ان واقعات کے بعد سوشل میڈیا پر اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ اور مذہبی آزادی کے بارے میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکم آمدن افراد کیلئے پنجاب میں 37 ہزار سے زائد گھروں کا نیا منصوبہ شروع کم آمدن افراد کیلئے پنجاب میں 37 ہزار سے زائد گھروں کا نیا منصوبہ شروع لاہور میں بسنت 2026 کی اجازت، ڈپٹی کمشنر کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ازبکستان کی فعال دیپلماتکن: 2025 — متحرک مکالمے سے ٹھوس نتائج تک ایک سال میں کونسی چیز کتنی مہنگی ہوئی اور کیا سستا ہوا؟ اعداد و شمار جاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ ساز تیزی؛ انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا مغربی ہواؤں کا سلسلہ آج سے ملک میں داخل ہونے کا امکان، مختلف شہروں میں بارشوں کی پیشگوئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اقلیتوں پر ظلم و ستم بھارت میں اقلیتوں پر توڑ پھوڑ کہ بھارت
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔