نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی این سی سی آئی اے نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ سال ایک نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل کا آغاز کیا جائے گا۔

رپورٹنگ پورٹل کا مقصد شہری آسانی سے شکایات درج کر سکیں، جبکہ اہم معاشی شعبوں کے ساتھ مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں بھی تشکیل دی جائیں گی۔

این سی سی آئی اے نے سال 2025 کے دوران سائبر جرائم کے خلاف نمایاں اور غیر معمولی کامیابیوں کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: این سی سی آئی اے کرپشن اسکینڈل، 4 افسران کے استعفے منظور

ایجنسی کے مطابق ڈیجیٹل جرائم کی تفتیش، گرفتاریوں، سزاؤں اور عوامی تحفظ کے شعبے میں یہ سال ایک سنگ میل ثابت ہوا۔

NCCIA has successfully carried out major operation in Karachi against a large,Chinese-backed cyber fraud & Ponzi scheme network.

????????has always upheld its friendship with????????,but has China reciprocated in same way,or has it continued to setup companies like this to exploit our people? pic.twitter.com/lVtSr9xltU

— Zafar Bashir ظفر بشیر (@zafarbashir_) December 26, 2025

این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل سید خرم علی کی سربراہی میں ادارے نے آن لائن فراڈ، ڈیٹا بریچ، رینسم ویئر حملوں اور سائبر مالیاتی جرائم سمیت مجموعی طور پر 2196 بڑے مقدمات کی تفتیش مکمل کی۔

ان مقدمات میں 36 فیصد کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا، جس کے نتیجے میں 2902 ملزمان گرفتار جبکہ 774 مجرموں کو عدالتوں سے سزائیں دلوائی گئیں۔

ایجنسی نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سرگرم پانچ منظم سائبر کرائم نیٹ ورکس کو بھی بے نقاب کر تے ہوئے ختم کیا، جو ڈیجیٹل سلامتی کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: این سی سی آئی اے نے مبینہ پونزی اسکیم کا نیٹ ورک بے نقاب کر دیا، غیر ملکی شہری گرفتار

مالی جرائم کے خلاف کارروائیوں میں این سی سی آئی اے نے سائبر فراڈ کے متاثرین کے لیے 461 ملین روپے سے زائد کی رقوم اور اثاثے بازیاب کروائے، جبکہ 46 ہزار 56 جعلی بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس منجمد کر کے مزید نقصان سے بچاؤ ممکن بنایا۔

خصوصی آپریشنز کے تحت ’آپریشن براؤن‘ کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد آن لائن بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث نیٹ ورکس کا خاتمہ تھا۔ اس کارروائی کے دوران 35 مقدمات درج کیے گئے اور اتنے ہی ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

مزید پڑھیں: این سی سی آئی اے کی عمران خان سے جیل میں تفتیش: سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے متعلق سوال پر جذباتی ردعمل

ادارے کی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ پر مبنی جدید سائبر انٹیلیجنس پلیٹ فارمز متعارف کروائے گئے، جبکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر 300 سے زائد قانون نافذ کرنے والے افسران کو جدید سائبر تفتیشی تربیت فراہم کی گئی۔

عوامی آگاہی کے شعبے میں این سی سی آئی اے نے قومی سطح کی مہمات کے ذریعے تقریباً 20 لاکھ شہریوں تک رسائی حاصل کی، جبکہ فشنگ، شناختی چوری اور کرپٹو فراڈ جیسے خطرات سے متعلق 30 سے زائد عوامی انتباہی ہدایات جاری کی گئیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد: این سی سی آئی اے نے مالی فراڈ میں ملوث 8 رکنی گروہ کو گرفتار کرلیا

بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے انٹرپول کے ساتھ شراکت داری مضبوط بنائی گئی اور اسلام آباد میں علاقائی سائبر کرائم تفتیش کاروں کا فورم منعقد کیا گیا، جس میں 5 سے زائد ہمسایہ ممالک نے شرکت کی۔

ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے سید خرم علی نے کہا کہ گزشتہ سال سائبر مجرموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی گئیں اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنا ادارے کی اولین ترجیح رہی۔

ان کے مطابق ادارہ مستقبل میں بھی بدلتے ہوئے ڈیجیٹل خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی کو مزید مؤثر بناتا رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آپریشن براؤن آن لائن فراڈ اثاثے انٹرپول این سی سی آئی اے جعلی بینک اکاؤنٹس جنسی استحصال ڈیجیٹل والٹس رپورٹنگ پورٹل سائبر انٹیلیجنس سائبر فراڈ سید خرم علی کرپٹو فراڈ مالیاتی جرائم نیشنل سائبر کرائم

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آن لائن فراڈ انٹرپول این سی سی ا ئی اے جعلی بینک اکاؤنٹس جنسی استحصال ڈیجیٹل والٹس رپورٹنگ پورٹل سائبر انٹیلیجنس سائبر فراڈ سید خرم علی کرپٹو فراڈ مالیاتی جرائم سی سی آئی اے نے رپورٹنگ پورٹل کے لیے

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا