Islam Times:
2026-07-24@02:38:11 GMT

غزہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ

اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT

غزہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ

اسلام ٹائمز: امریکہ جو اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ایک امن معاہدہ فلسطینی عوام پر تھونپ دینا چاہتا تھا اور جنگ کی کامیابی کا کریڈٹ حاصل کرنا چاہتا تھا، بری طرح سے ناکام ہوچکا ہے۔ کیونکہ دنیا بھر کے سیاسی ماہرین کی رائے ہے کہ اگر کوئی بھی معاہدہ فلسطینی عوام کی مرضی کے بغیر لاگو کیا گیا تو وہ قابل عمل نہیں ہوگا اور مستبقل میں اسکے مزید نقصانات سامنے آئیں گے۔ ان تجزیات سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل میدان میں شکست کھائی ہوئی جنگ کو میز پر بھی شکست کھاتے نظر آرہے ہیں۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان

غزہ جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے، اس عنوان سے عالمی ذرائع ابلاغ پر خبریں نشر ہو رہی ہیں۔ البتہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اب بھی ایک صیہونی قیدی حماس کے پاس ہے، جبکہ حماس اس بارے میں پہلے ہی تردید کرچکی ہے اور بتا چکی ہے کہ صیہونی قیدی جس کا تعلق اسرائیلی پولیس سے تھا، وہ غزہ میں اسرائیل کی بمباری کے نتیجہ میں ہلاک ہوچکا ہے اور غزہ پر شدید بمباری کی وجہ سے اس کی باقیات کو تلاش کرنا بھی ممکن نہیں رہا ہے۔ غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلہ میں حماس نے تمام 30 صیہونی قیدیوں کو غاصب اسرائیل کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جس کے عوض تقریبا 1700 سے 2000 فلسطینی قیدیوں کی رہائی ہونا طے پائی تھی، ان فلسطینی قیدیوں میں خواتین، بچے اور جوانوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔

بہرحال پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے، لیکن اس مرحلہ کے آغاز سے اختتام تک غاصب صیہونی افواج نے مسلسل معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور غزہ میں بمباری جاری رکھی اور یہاں تک کہ حماس کے ایک رہنماء کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر قتل کیا۔ خلاصہ یہ رہا ہے کہ اسرائیل کسی بھی جنگ بندی معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا ہے بلکہ ہمیش عالمی قوانین کے ساتھ ساتھ معاہدوں اور قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتا ہے۔ اب جیسا کہ بتایا جا رہا ہے کہ غزہ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے تو اب دوسرے مرحلہ کی بات ہو رہی ہے۔ غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلہ میں امریکی صدر ٹرمپ کی پیش کردہ شرائط اور نقاط کے مطابق غزہ میں ایسے علاقے جہاں اسرائیلی افواج نے کنٹرول حاصل کیا ہے، وہاں سے اسرائیلی افواج کا انخلاء کیا جائے گا اور اس کے عوض حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا۔ واضح رہے کہ اس معاہدے کے پہلے روز سے ہی حماس اور تمام فلسطینی دھڑوں نے غیر مسلح ہونے والے نقطہ کو تسلیم نہیں کیا تھا۔

البتہ حماس کی قیادت کے ایسے بیانات میڈیا پر آئے تھے، جن میں یہ کہا گیا تھا کہ اگر حماس کو غیر مسلح ہونا ہوا تو حماس آزاد فلسطینی ریاست کی فوج کے سامنے اپنا اسلحہ رکھے گی۔ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے سیاسی ماہرین بھی اپنے تجزیات میں بیان کرتے آئے ہیں کہ حماس کا غیر مسلح ہونا اتنا آسان کام نہیں ہے، جس طرح ٹرمپ سمجھ رہے ہیں، کیونکہ حماس کبھی بھی امریکہ اور اسرائیل کے سامنے اپنا اسلحہ نہیں رکھے گی۔ حالیہ دنوں میں یہ بحث اب شدت اختیار کر رہی ہے، کیونکہ اسی دوسرے مرحلہ میں اسرائیلی افواج کے انخلاء اور حماس کے غیر مسلح ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم نقطہ مشروط ہے، وہ یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی خواہش پر مسلمان ممالک کی افواج عالمی استحکام فورس کے عنوان سے غزہ میں تعینات ہو جائیں گی، جس کے بارے میں نیتن یاہو نے بھی اس شرط پر قبول کیا ہے کہ ترکیہ کی افواج غزہ نہیں آئیں گی، باقی کسی بھی مسلمان ممالک کی افواج غزہ آسکتی ہے۔ اس معاملہ میں جہاں انڈونیشیا، سعودی عرب، مصر، اردن، ترکیہ اور آذربائیجان کی افواج کی بات چل رہی ہے، وہاں پاکستان کی افواج کو بھی غزہ میں تعینات کرنے کی بات ہو رہی ہے۔

پاکستان میں اس معاملہ پر بحث جاری ہے۔ کئی ایک مرتبہ حکومتی وزراء نے وضاحتیں پیش کی ہیں، لیکن یہ سب اس لئے نامکمل ہے، کیونکہ فوج بھیجنے کا فیصلہ کسی ایک ادارے یا حکومت کا نہیں ہے، بلکہ اس بارے میں پارلیمنٹ کی رائے نہیں لی گئی، یعنی پاکستان کے عوام اس معاملہ پر شدید نالاں ہیں۔ دوسری طرف جیسا کہ ترک افواج کو اسرائیل نے قبول کرنے سے انکار کیا ہے اور ساتھ ساتھ مصر اور انڈونیشاء نے بھی غزہ میں فوج تعینات کرنے سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آذربائیجان جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے، اس نے بھی غزہ میں فوج تعیناتی پر معذرت کی ہے اور کہا ہے کہ فوج کی کمی کے باعث آذربائیجان اپنی فوج غزہ نہیں بھیجے گا۔ اب صرف پاکستان اور اردن سمت سعودی عرب کی فوجوں کی بات رہ گئی ہے۔ واضح رہے کہ نومبر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ میں قیامِِ امن کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے کے حق میں قرارداد منظور کی تھی، جس میں غزہ میں عالمی امن فورس بھیجنے کی شق بھی شامل تھی۔ پاکستان نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی تھی۔

امریکی عہدیدار مارکو روبیو کی پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان اس معاملہ میں پیش کش کرچکا ہے، جس کے بعد پاکستان میں حکومت کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس تنقید کا رخ موڑنے کے لئے وفاقی وزیر اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ اگر ہمیں یہ کہا گیا کہ وہاں جا کر لڑنا شروع کر دیں۔۔ حماس کو غیر مسلح کریں اور اُن کی سرنگوں کو جا کر ختم کریں تو یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ وہ ایک مسلمان کو دوسرے سے لڑانے والی بات ہوگی۔ ہم صرف امن قائم رکھنے اور سوشل ورک کے لیے وہاں جانے کو تیار ہیں۔ یہ وہ وضاحت ہے، جو پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کو ہونے والی نیوز بریفنگ میں غزہ میں 3500 پاکستانی فوج بھیجنے کی میڈیا رپورٹس سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں دی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب پاکستان کے دفتر خارجہ یا خود وزیر خارجہ کو غزہ میں "انٹرنیشنل فورس" کے لیے پاکستانی فوج بھیجنے کے معاملے پر وضاحت کرنا پڑی ہو۔

برطانیہ میں مقیم پاکستانی مصنفہ عائشہ صدیقہ نے اسرائیلی اخبار "ہارٹز" میں لکھے گئے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے غزہ میں اپنی فوج بھیجنے کا کہہ سکتے ہیں اور اس معاملے پر فیصلہ ایک بہت بڑا جوا ہوگا۔ جمعے کے روز ہونے والی نیوز بریفنگ میں اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی سول اور فوجی حکومت کے مابین اس معاملے میں مکمل ہم آہنگی ہے کہ "ہم غزہ میں صرف امن قائم کرنے کے لیے جائیں گے۔" سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ کس طرح کا امن ہے، جو پاکستان کی فوج کو غزہ بھیج کر قائم کیا جائے گا، جبکہ پوری دنیا یہ دیکھ چکی ہے کہ گذشتہ اڑھائی سالوں میں اسرائیل نے فلسطینیوں کی نسل کشی کی ہے، لیکن کسی بھی مسلمان فوج نے غزہ میں جا کر امن قائم کرنے کی کوشش نہیں کی تو اب کس طرح کا امن۔؟

اسی طرح فلسطین کے عوام اور فلسطینی دھڑوں نے کسی بھی غیر ملکی فوج کی غزہ تعیناتی کو غیر قانونی اور فلسطین کی زمین پر قابض فورس سے تشبیہ دی ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مسلمان ممالک کی افواج امریکی صدر ٹرمپ کی خواہش پر نیتن یاہو کی بقاء کے لئے غزہ تعیناتی کے منصوبہ کا حصہ نہ بنیں۔ اصولی طور پر اس معاملہ میں فیصلہ وہی ہونا چاہیئے، جو فلسطینی عوام چاہتے ہیں، جو فلسطینی سیاسی و عسکری دھڑے چاہتے ہیں، نہ کہ امریکی صدر کی خواہشات کی تکمیل کے لئے مسلمان ممالک کی افواج کو ایندھن بنایا جائے۔ بہرحال یہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ ہے، جس کی تکمیل ناممکن نظر آتی ہے۔ اس کے بعد تیسرے مرحلہ میں غزہ میں ٹیکنو کریٹ حکومت کے قیام کا ہے، پھر اس کے بعد غزہ کی تعمیر نو کا کام شروع ہونا ہے، جو کہ چوتھا مرحلہ ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے علماء اور مشائخ نے بھی پاکستان کی فوج کو غزہ جانے کے اقدام پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مجلس اتحاد امت پاکستان کے زیرِاہتمام کراچی میں ہونے والی اس کانفرنس میں مفتی تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمن اور مفتی منیب الرحمان سمیت متعدد مکاتب فکر کے علما نے شرکت کی تھی۔ خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ جو اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ایک امن معاہدہ فلسطینی عوام پر تھونپ دینا چاہتا تھا اور جنگ کی کامیابی کا کریڈٹ حاصل کرنا چاہتا تھا، بری طرح سے ناکام ہوچکا ہے۔ کیونکہ دنیا بھر کے سیاسی ماہرین کی رائے ہے کہ اگر کوئی بھی معاہدہ فلسطینی عوام کی مرضی کے بغیر لاگو کیا گیا تو وہ قابل عمل نہیں ہوگا اور مستبقل میں اس کے مزید نقصانات سامنے آئیں گے۔ ان تجزیات سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل میدان میں شکست کھائی ہوئی جنگ کو میز پر بھی شکست کھاتے نظر آرہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مسلمان ممالک کی افواج معاہدہ فلسطینی عوام امریکہ اور اسرائیل پاکستان کے فوج بھیجنے پاکستان کی اسرائیل کے چاہتا تھا مرحلہ میں اس معاملہ ہوچکا ہے ٹرمپ کی نہیں ہے کہ حماس کسی بھی کیا ہے کو غیر کی فوج نے بھی کے لئے رہی ہے کی بات کہ اگر رہا ہے ہے اور کی تھی

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف