شہید عثمان ہادی کے قاتلوں کی گرفتاری میں مدد دینے والے کیلیے 50 لاکھ ٹکہ انعام، سکھس فار جسٹس کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
امریکا میں قائم سکھ علیحدگی پسند تنظیم سکھس فار جسٹس (SFJ) نے کہا ہے کہ وہ شہید عثمان ہادی کے قتل میں ملوث افراد کی شناخت، گرفتاری اور واپسی میں مدد دینے والی قابلِ اعتماد معلومات پر 50 لاکھ ٹکہ انعام دے گی۔
تنظیم کا دعویٰ ہے کہ قتل میں ملوث ملزمان واقعے کے بعد بھارت فرار ہو گئے تھے۔
SFJ کا یہ اعلان ڈھاکا پولیس کے اس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ عثمان ہادی کے قتل میں ملوث افراد ملک سے فرار ہو گئے ہیں اور ان کی بیرونِ ملک موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔
سکھس فار جسٹس کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں نے ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ تنظیم بھارتی حکومت کے اس کردار کو بے نقاب کرے گی جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ سرحد پار اور بین الاقوامی سطح پر کارروائیوں میں ملوث ہے۔
پنوں کے مطابق ان کے پاس موجود معلومات کی بنیاد پر عثمان ہادی کے قتل کی کارروائی دیگر مبینہ سرحد پار قتل کے واقعات سے مماثلت رکھتی ہے، جن میں کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کا قتل بھی شامل ہے۔
View this post on Instagram
A post shared by Sikhs For Justice (@sikhsforjustice)
پنوں نے دعویٰ کیا کہ قتل کے احکامات دہلی سے دیے گئے، منصوبہ بندی ڈھاکہ میں واقع بھارتی ہائی کمیشن سے کی گئی، اور مبینہ طور پر عملدرآمد ڈھاکہ میں بھارت سے منسلک افراد کے ذریعے ہوا۔
SFJ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ڈھاکہ میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر پرنئے ورما اس منصوبہ بندی اور موقع پر رابطہ کاری کے ذمہ دار تھے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں کی بنیاد پر عوامی تعاون حاصل کرنے کے لیے انعام رکھا گیا ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کی شناخت، گرفتاری اور واپسی ممکن بنا سکیں۔
تنظیم کے مطابق انعام کا مقصد تحقیقات میں پیش رفت اور مبینہ طور پر ذمہ دار عناصر کے احتساب کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، ان الزامات پر بھارتی حکام یا متعلقہ فریقین کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش سکھس فار جسٹس شہید عثمان ہادی گرپتونت سنگھ پنوں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش سکھس فار جسٹس شہید عثمان ہادی گرپتونت سنگھ پنوں سکھس فار جسٹس عثمان ہادی کے میں ملوث
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔