Daily Sub News:
2026-06-02@23:53:19 GMT

روس یوکرین جنگ بندی: ٹرمپ ،زیلنسکی طویل ملاقات بے نتیجہ

اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT

روس یوکرین جنگ بندی: ٹرمپ ،زیلنسکی طویل ملاقات بے نتیجہ

روس یوکرین جنگ بندی: ٹرمپ ،زیلنسکی طویل ملاقات بے نتیجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 29 December, 2025 سب نیوز

فلوریڈا میں ٹرمپ کی رہائش گاہ مارالاگو میں امریکی و یوکرینی صدر کی ملاقات 2 گھنٹے سے زائد تک جاری رہی،ختم کے خاتمے پر بات چیت کی گئی
ملاقات میں روس یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق امن منصوبے کے مختلف امور زیر غور آئے،دونوں رہنما کسی ختمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے
واشنگٹن(آئی پی ایس )روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اوریوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی ملاقات بغیر کسی بڑے بریک تھرو کے ختم ہوگئی۔فلوریڈا میں ٹرمپ کی رہائش گاہ مارالاگو میں امریکی و یوکرینی صدر کی ملاقات 2 گھنٹے سے زائد تک جاری رہی۔

ملاقات میں روس یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق امن منصوبے کے مختلف امور زیر غور آئے تاہم یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونباس کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال تاحال برقرار ہے اور دونوں رہنما ڈونباس سے متعلق کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ روس یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدے کے قریب ہیں تاہم انہوں نے ایک موقع پر مذاکرات کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے اعتراف کیاکہ ابھی امن منصوبے کے کچھ نکات پر حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔صدر ٹرمپ نے بتایا کہ یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونباس کے مستقبل سے متعلق چند مسائل ابھی حل طلب ہیں۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ کچھ غیر متوقع رکاوٹیں مذاکرات کے پورے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ یوکرین کے لیے بہتر ہوگا کہ جلد معاہدہ کرلے ورنہ روس مزید علاقوں پر قبضہ کر سکتا ہے۔

یوکرینی صدر زیلنسکی نے بتایا کہ امریکی اور یوکرینی مذاکرات کاروں نیگزشتہ ہفتوں میں اہم پیش رفت کی ہے اور مسودے کے 90 فیصد نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔صدر زیلنسکی کا مشرقی علاقے ڈونباس سے متعلق کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ آخرکار یوکرینی عوام ہی کریں گے۔ادھر غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امن معاہدے کے مسودے میں یوکرین کا علاقہ ڈونباس بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے کیونکہ روس پورے علاقے پر قبضے کا خواہاں ہیں اور پیوٹن خبردار کرچکے ہیں کہ یوکرین کو ڈونباس کے زیر کنٹرول علاقوں سے دستبردار ہونا ہوگا۔ دوسری جانب یوکرین کے صدر نے کہا کہ امریکی صدر نے ڈونباس کو آزاد اقتصادی زون بنانے کی تجویز دی ہے، زیلنسکی نے گزشتہ دنوں اعلان کیا کہ وہ ملک کے مشرقی صنعتی علاقے ڈونباس سے فوجی دستوں کو واپس نکال سکتے ہیں، بشرطیکہ روس بھی اپنی افواج نکال دیں اور اس علاقے کو بین الاقوامی نگرانی میں ڈیمیلٹرائزڈ زون بنایا جائے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین اور پاکستان شراکت داری نے باہمی تقدیر کے مستحکم رشتے کو جنم دیا ہے، چینی میڈیا عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، خودکش حملے کیلئے تیار کم عمر طالبہ کو ریسکیو کرلیا گیا تھائی اور کمبوڈیائی افواج کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا ہے، چینی وزیر خارجہ آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے جج جسٹس خالد یوسف چودھری نے حلف اٹھا لیا قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری، چیف ویپ کو چوتھا خط ارسال خواتین کیخلاف نازیبا سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق کیس: جرم کو سختی سے دیکھنا ہوگا، جج سپریم کورٹ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: روس یوکرین جنگ

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور