گھانا میں نبوت کے دعویدار کا ڈراما بے نقاب: عالمی طوفان کی جعلی پیش گوئی پر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
افریقی ملک گھانا میں نبوت کے دعویدار شخص کا ڈراما بالآخر بے نقاب ہوگیا، جسے عالمی طوفان کی جعلی پیش گوئی کرنے پر گرفتار کرلیا گیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اس بدبخت شخص کے دعوے پر یقین کرتے ہوئے کئی افراد نے اپنی جائیدادیں فروخت کیں اور اس کی تیار کردہ کشتیوں میں جگہیں حاصل کیں تاکہ وہ طوفان سے بچ سکیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق اُس نے 25 دسمبر 2025 کو عالمی طوفان آنے کی پیش گوئی کی تھی اور دعویٰ کیا کہ صرف اس کی کشتیوں میں موجود افراد ہی محفوظ رہیں گے، تاہم حالیہ واقعے میں ایک نامعلوم شخص نے اس منصوبے کی علامت سمجھی جانے والی کشتی کو آگ لگا دی اور بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ جلنے والی کشتی دراصل کسی اور کی تھی۔ اسے محض ایک علامتی پیغام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اس معاملے نے تب مزید زور پکڑا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایبو نوح کو نئی مرسڈیز گاڑی میں دیکھا گیا، جس کی قیمت تقریباً 89 ہزار ڈالر بتائی گئی۔ مبینہ طور پر یہ گاڑی پیروکاروں سے جمع شدہ رقم سے خریدی گئی تھی، جس پر عوام میں شدید غصہ اور تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
گھانا کی سیکورٹی فورسز نے بدبخت شخص کو جھوٹی معلومات پھیلانے اور عوام کو گمراہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ اسی دوران اس نے ایک نئی ویڈیو میں دنیا کے خاتمے کی تاریخ مؤخر کرنے کا اعلان کیا اور مزید کشتیوں کی تیاری کے دعوے کیے، جس پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔