نگر، پی پی اور پی ٹی آئی کے سینکڑوں افراد کی اسلامی تحریک میں شمولیت
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
شین بر کے کئی خاندان گذشتہ 32 سالوں سے پاکستان پیپلز پارٹی اور الیکشن 2020ء میں تحریک انصاف کے ووٹر تھے جنہوں نے اب اسلامی تحریک پاکستان میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حلقہ چار نگر میں موضع برشین بر میں دوسری جماعتوں کے تعلق رکھنے والے بولیو فیملی کے پچیس گھرانوں کے بیسیوں افراد نے شیخ میرزا علی صوبائی صدر اسلامی تحریک پاکستان کی گلگت بلتستان سے متعلق موقف اور حلقہ چار میں ترقیاتی منصوبوں کے جال بچھانے پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے اسلامی تحریک پاکستان میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی اور خاندان سے جڑے افراد کو بھی آنے والے دنوں میں مشاورت سے شامل کروا کر آمدہ الیکشن میں بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ قابل ذکر ہے مذکورہ خاندان گذشتہ 32 سالوں سے پاکستان پیپلز پارٹی اور الیکشن 2020ء میں تحریک انصاف کے ووٹر تھے جنہوں نے اب اسلامی تحریک پاکستان میں شمولیت اختیار کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی تحریک پاکستان
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔