نگر، پی پی اور پی ٹی آئی کے سینکڑوں افراد کی اسلامی تحریک میں شمولیت
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
شین بر کے کئی خاندان گذشتہ 32 سالوں سے پاکستان پیپلز پارٹی اور الیکشن 2020ء میں تحریک انصاف کے ووٹر تھے جنہوں نے اب اسلامی تحریک پاکستان میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حلقہ چار نگر میں موضع برشین بر میں دوسری جماعتوں کے تعلق رکھنے والے بولیو فیملی کے پچیس گھرانوں کے بیسیوں افراد نے شیخ میرزا علی صوبائی صدر اسلامی تحریک پاکستان کی گلگت بلتستان سے متعلق موقف اور حلقہ چار میں ترقیاتی منصوبوں کے جال بچھانے پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے اسلامی تحریک پاکستان میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی اور خاندان سے جڑے افراد کو بھی آنے والے دنوں میں مشاورت سے شامل کروا کر آمدہ الیکشن میں بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ قابل ذکر ہے مذکورہ خاندان گذشتہ 32 سالوں سے پاکستان پیپلز پارٹی اور الیکشن 2020ء میں تحریک انصاف کے ووٹر تھے جنہوں نے اب اسلامی تحریک پاکستان میں شمولیت اختیار کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی تحریک پاکستان
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔