باجوڑ میں آپریشن؛ 5 دہشت گرد ہلاک، میجر عدیل زمان شہید
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
راولپنڈی: باجوڑ کے علاقے خار میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کرتے ہوئے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جب کہ اس دوران میجر عدیل زمان شہید ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک مؤثر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی انجام دی۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں 5 دہشت گرد ہلاک ہوئے جب کہ ان کے قبضے سے ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ہلاک دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے اور شہریوں کی ہلاکتوں میں بھی شریک پائے گئے۔کارروائی کے دوران میجر عدیل زمان شہید ہوگئے۔ شہید میجر عدیل زمان کی عمر 36 سال تھی جب کہ ان کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے تھا۔ انہوں نے اپنے دستوں کی قیادت کرتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں دہشت گردوں کے ممکنہ خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف اپنی کارروائیاں پُرعزم انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز میجر عدیل زمان
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔