جماعت اسلامی کراچی جنوری 2026 میں عوامی رابطہ مہم کا نیا مرحلہ شروع کرے گی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے اعلان کیا ہے کہ جنوری 2026 میں جماعت اسلامی کراچی کے تحت عوامی رابطہ مہم کے اگلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا، جس کے دوران 10 لاکھ نئے ممبران بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں ہزاروں عوامی اور محلہ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جن میں نوجوانوں کی بھرپور شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ انہیں مؤثر اور فعال کردار دیا جا سکے۔
ادارہ نورِ حق میں منعقدہ جماعت اسلامی کے ایک روزہ سالانہ اجتماعِ ارکان سے خطاب کر تے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ عوامی و محلہ کمیٹیاں اصلاحِ معاشرہ، کردار سازی، شہری مسائل کے حل اور حکومتی اداروں سے عوام کو ریلیف دلانے میں اہم کردار ادا کریں گی، یہ کمیٹیاں نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے منشیات کے رجحان کے تدارک کے لیے بھی عملی اقدامات کریں گی۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے جماعت کے ارکان، ذمہ داران اور کارکنان پر زور دیا کہ وہ ممبر سازی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں اور اس مہم کے ذریعے دعوت، تربیت اور تنظیم سازی کے عمل کو مزید تیز اور مربوط کریں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی دراصل اقامتِ دین کی تحریک ہے جو اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے دین کا جامع تصور پیش کیا، جس کے مطابق دین صرف چند عبادات تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو معاشرت، معیشت، عدل و انصاف اور حکومت سمیت زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ انسانوں کو بندوں کی غلامی اور ظلم سے نجات دلانے کی جدوجہد بھی دین کا بنیادی تقاضا ہے، اسی لیے جماعت اسلامی ہمیشہ عوامی مسائل کے حل، ظلم و استحصال کے نظام کے خاتمے اور عوام کے حقوق کے لیے میدان میں رہتی ہے اور عوام کی ایک مؤثر اور توانا آواز بنتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔