بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان کی سابق اہلیہ اور ہدایت کار کرن راؤ اسپتال میں زیر علاج ہیں، جہاں انہوں نے اپینڈکس کی سرجری کے بعد اپنی تصاویر جاری کی ہیں۔

فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ ’انسٹاگرام‘ پر کرن راؤ نے ممبئی کے سر ایچ این ریلائنس فاؤنڈیشن اسپتال سے ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے مداحوں کو اپنی صحت سے متعلق اپ ڈیٹس فراہم کیں اور ساتھ ہی تصاویر بھی شیئر کیں۔

اپنی پوسٹ میں کرن راؤ نے اسپتال کی ایک مختصر ویڈیو شیئر کیں اور ساتھ ہی چند تصاویر جس میں انہوں نے اسپتال کی جانب سے مریض کو پہنائے جانے والے بینڈ (جس پر مریض کا نام درج ہوتا ہے) بھی شیئر کیا اور ساتھ اپنی ایک سیلفی بھی شیئر کی۔

حیران کن طور پر ایک تصویر میں کرن راؤ کے نام کے ساتھ آج بھی عامر خان کا نام جڑا ہوا ہے اور انہوں نے اسپتال میں اپنا پورا نام ’کرن عامر راؤ خان‘ لکھوایا ہے جس سے صارفین کے ذہن میں سوالات کھڑے ہوگئے ہیں کہ آیا ان کی اب تک طلاق نہیں ہوئی یا کوئی اور معاملہ ہے۔ 

52 سالہ کرن راؤ نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ وہ 2026 کی پارٹی کی تیاریوں میں مصروف تھیں لیکن انہیں پینڈکس کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہونا پڑا اور وہ ساری تیاریاں ادھوری رہ گئیں۔

انہوں نے سرجری کرنے والی ڈاکٹروں کی ٹیم، اسپتال کے عملے، اپنے دوستوں اور اہل خانہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ’کچھ ملنے والے ان کے ہونٹوں کا مذاق اڑانے آئے تھے جو الرجی کی وجہ سے سوج گئے تھے مگر اب بہتر ہوگئے ہیں۔

بالی ووڈ ہدایت کار نے اپنی پوسٹ میں تصدیق کی کہ انہیں اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے اور وہ اب گھر واپس آچکی ہیں۔

واضح رہے کہ کرن راؤ نے اپنے کیریئر کا آغاز فلم ’لگان‘ میں معاونت سے کیا تھا اور بعد ازاں ’دھوبی گھاٹ‘ کی ہدایت کاری کی اور حال ہی میں ان کی ریلیز ہونے والی فلم ’لاپتا لیڈیز‘ نے نہ صرف بھارت میں متعدد ایوارڈز حاصل کیے بلکہ فلم کو 2024 میں بھارت کی جانب سے آسکرز کے لیے بھی منتخب کیا گیا۔

عامر خان اور ہدایت کارہ کرن راؤ نے 16 سال بعد 3 جولائی 2021 کو ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے طلاق کا اعلان کیا تھا اور ساتھ یہ کہا تھا کہ یہ فیصلہ باہمی اتفاق سے ہوا، جس کے بعد وہ اپنے بیٹے آزاد راؤ خان کی مشترکہ پرورش کریں گے۔ 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انہوں نے اور ساتھ شیئر کی

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق