ہالی ووڈ کی کامیاب ترین فلموں میں شامل اواتار کے ہدایتکار جیمز کیمرون نے نئی فلم ’اواتار: فائر اینڈ ایش‘ کی ریلیز کے بعد فرنچائز کے مستقبل پر خاموشی توڑ دی ہے۔

انٹرٹینمنٹ ویکلی سے گفتگو کرتے ہوئے 71 سالہ معروف فلم ساز نے کہا کہ وہ ابھی اس بات کا یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اواتار کی کہانی فائر اینڈ ایش کے بعد بھی آگے بڑھے گی یا نہیں۔

جیمز کیمرون نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ جاری رہے، لیکن ہر نئی فلم کے ساتھ اس کی تجارتی کامیابی کو ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی وجہ سے اواتار 4 اور 5 نہ بن سکیں تو وہ باقاعدہ پریس کانفرنس میں مداحوں کو بتائیں گے کہ کہانی کو کس سمت میں لے جایا جانا تھا۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ اواتار فلموں کو ناول کی شکل میں ڈھالنے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کے یہ کہانی کے اصل اور مستند ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کا ایک اچھا طریقہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ڈیڈلائن کی رپورٹ کے مطابق اواتار: فائر اینڈ ایش نے رواں ہفتے چھٹیوں کے دوران صرف امریکا میں 153.

6 ملین ڈالرز کمائے اور کئی باکس آفس ریکارڈز توڑ دیے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فلم ابتدائی ہفتے میں ہی عالمی سطح پر ایک ارب ڈالرز کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

واضح رہے کہ یہ اواتار سیریز کی تیسری فلم ہے جو 19 دسمبر کو دنیا بھر میں ریلیز کی گئی تھی۔

TagsShowbiz News Urdu

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان