نقاب میں مضبوط اور گرج دار آواز: اسرائیل کو ناکوں چنے چبوانے والے ابو عبیدہ کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
غزہ کی جنگی فضا میں اگر کوئی ایک آواز بار بار سنائی دیتی رہی ہے تو وہ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ کی تھی جو ہمیشہ چہرے کو فلسطینی رومال سے ڈھانپے رہتے تھے۔
یہی وجہ ہے وہ ایک ایسا چہرہ بن گئے جو کبھی مکمل طور پر دنیا کے سامنے نہیں آیا مگر جن کی آواز، لہجہ اور گونجتے الفاظ نے عالمی میڈیا، اسرائیلی اور فلسطینی عوام سب کو متاثر کیا۔
ایک نام، ایک علامت
ابو عبیدہ دراصل اصل نام نہیں بلکہ ایک عرفی شناخت ہے، جو اسلامی تاریخ کی معروف شخصیت حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ سے منسوب ہے۔
یہی نسبت انھیں حماس کے حامیوں میں ایک علامتی حیثیت دیتی ہے ایک ایسا کردار جو صرف ترجمان نہیں بلکہ مزاحمت کی نمائندگی بن چکا ہے۔
حماس نے تصدیق کی ہے کہ ابو عبیدہ کا اصل نام حذیفہ الکحلوت تھا۔ جو کئی برسوں تک القسام بریگیڈز کے ترجمان کے طور پر سامنے آئے اور غزہ میں حماس کی جانب سے سب سے نمایاں اور بااثر آواز سمجھے جاتے تھے۔
سرخ کوفیہ اور خاموش چہرہ
ابو عبیدہ ہمیشہ ویڈیو پیغامات میں سرخ فلسطینی کوفیہ سے چہرہ ڈھانپے دکھائی دیتے ہیں۔ پس منظر میں قرآن کی آیات، سادہ سی اسکرین اور ایک مضبوط آواز، بس یہی ان کی پہچان ہے۔
یہ انداز نہ صرف ان کی شناخت کو راز میں رکھتا ہے بلکہ انہیں ایک علامتی اور پراسرار شخصیت بنا دیتا ہے۔
جہاں میدانِ جنگ میں ہتھیار استعمال ہوتے ہیں، وہیں ابو عبیدہ الفاظ اور بیانیے کی جنگ لڑتے رہے۔
ان کے بیانات حماس کی عسکری کارروائیوں کی تفصیلات، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے دعوے، اسرائیلی قیدیوں اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے پر مشتمل ہوتے تھے۔
یہ سب پیغامات ایک منظم پیغام کے تحت متواتر سامنے آتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں بعض مبصرین “حماس کی میڈیا مشین” بھی کہتے ہیں۔
پس منظر میں چھپا ہوا سفر
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ابو عبیدہ کو پہلی بار 2002 کے بعد القسام بریگیڈز کے فیلڈ ڈھانچے میں پہچانا گیا۔
2006 میں انہیں باضابطہ طور پر القسام بریگیڈز کا ترجمان مقرر کیا گیا، اور اسی سال ایک اسرائیلی فوجی چوکی پر حملے کے بعد وہ پہلی مرتبہ عالمی سطح پر منظرِ عام پر آئے۔
اسی کارروائی میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی رہائی برسوں بعد ایک بڑے قیدی تبادلے کے معاہدے کے ذریعے ممکن ہوئی۔
شناخت کا معمہ
ابو عبیدہ کی اصل شناخت طویل عرصے تک راز رہی۔ اسرائیلی فوج نے 2023 میں دعویٰ کیا کہ ان کا اصل نام حذیفہ سمیر عبداللہ الکہلوت ہے جس کی حماس نے اب تصدیق کی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وہ غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ تھے۔ جہاں انھوں نے مذہبی علوم میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور تحقیق و تدریس سے بھی وابستہ رہے۔
بار بار نشانہ
اسائیلی رپورٹس کے مطابق مختلف ادوار میں اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران ان کے گھروں کو متعدد بار نشانہ بنایا گیا، مگر وہ ہر بار منظر سے غائب ہی رہے اور ہمیشہ محفوظ رہے۔
ایک کردار، جو تاریخ کا حصہ بن گیا
چاہے انھیں ایک ترجمان سمجھا جائے، ایک علامت یا ایک حکمتِ عملی کا حصہ تھے، ابو عبیدہ نے یہ ثابت کر دیا کہ جدید تنازعات میں میڈیا اور بیانیہ بھی ہتھیار بن چکے ہیں۔
وہ شخص جس کا چہرہ دنیا نے واضح نہیں دیکھا، مگر جس کا نام مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ تاریخ میں ہمیشہ زیرِ بحث رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: القسام بریگیڈز
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔