روس نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی سرکاری رہائشگاہ نوگوروڈ میں ڈرون حملے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: جی20 ممالک کے اجلاس میں روس یوکرین امن منصوبے پر غور، امریکا نے بائیکاٹ کیوں کیا؟

روسی حکام کے مطابق یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا اور تمام ڈرونز کو بروقت مار گرایا گیا، جس کے نتیجے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے اس واقعے کو ریاستی دہشتگردی کی پالیسی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایسی کارروائیاں روس کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور ان کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین نے اس نوعیت کی کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان کے مطابق پیوٹن کی رہائشگاہ پر حملے کی کہانی من گھڑت ہے اور روس اس دعوے کو یوکرین کے خلاف مزید حملوں کا جواز بنانے کے لیے استعمال کررہا ہے۔ مزید پڑھیں:روس یوکرین علاقائی تنازع: زیلنسکی، پیوٹن سے براہ راست مذاکرات کے لیے تیار زیلنسکی نے مزید کہاکہ یوکرین ایسے اقدامات نہیں کرتا جو سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچائیں، بلکہ روس امریکی صدر ٹرمپ کی سفارتی کاوشوں کو بھی کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews حملہ ناکام روس صدر پیوٹن وی نیوز یوکرین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: حملہ ناکام صدر پیوٹن وی نیوز یوکرین کے لیے

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران