نوجوان نے اپنا ہی خون پی لیا، حالت بگڑنے پر اسپتال منتقل
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو:روس میں سوشل میڈیا کے ایک خطرناک رجحان نے 17 سالہ نوجوان کی جان خطرے میں ڈال دی، جس نے انٹرنیٹ پر دیکھی گئی ایک ویڈیو سے متاثر ہو کر خون میں ہیموگلوبین اور آئرن کی مقدار بڑھانے کی کوشش میں اپنا ہی خون نکال کر پی لیا۔ اس غیر معمولی اور تشویشناک واقعے کی تصدیق بعد ازاں روسی ہیلتھ ماہرین نے بھی کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ماسکو سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ نوجوان نے مبینہ طور پر سرنج کے ذریعے اپنا خون نکالا اور اسے پی لیا۔ نوجوان کا خیال تھا کہ اس عمل سے اس کے جسم میں آئرن کی مقدار بڑھے گی اور صحت بہتر ہو جائے گی، چند ہی گھنٹوں بعد اس کی حالت بگڑنا شروع ہو گئی۔
طبی ذرائع کے مطابق نوجوان کو پہلے شدید متلی محسوس ہوئی، پھر خون کی الٹیاں شروع ہو گئیں اور اس کے بعد تیز بخار نے اسے گھیر لیا۔ ایک موقع پر اس کی طبیعت اس قدر خراب ہو گئی کہ اہل خانہ کو فوری طور پر اسے ایمرجنسی میں اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد بتایا کہ نوجوان کے جسم میں شدید زہریلے اثرات پھیل چکے ہیں، جس کے باعث اسے فوری طور پر داخل کر کے علاج شروع کیا گیا۔
ڈاکٹروں کی بروقت کوششوں سے نوجوان کی جان تو بچ گئی، تاہم جب طبی عملے کو اس کی حالت بگڑنے کی اصل وجہ معلوم ہوئی تو وہ بھی حیران رہ گئے۔ نوجوان نے اعتراف کیا کہ اس نے یہ خطرناک قدم سوشل میڈیا پر دیکھی گئی ایک ویڈیو سے متاثر ہو کر اٹھایا تھا، جس میں خون پینے کو صحت کے لیے مفید قرار دیا گیا تھا۔
ماہرین صحت نے اس واقعے کے بعد خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر مصدقہ اور غیر سائنسی معلومات نوجوانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہیموگلوبین یا آئرن کی کمی کا علاج صرف مستند طبی مشورے اور مناسب دواؤں سے ممکن ہے، خود سے ایسے تجربات جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے والدین پر بھی زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ اس طرح کے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔