کراچی، ڈھاکا: براہ راست پرواز کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251230-03-2
پاکستان کے ہائی کمشنر برائے بنگلا دیش عمران حیدر نے امید ظاہر کی ہے کہ ڈھاکا اور کراچی کے درمیان براہِ راست پروازیں آئندہ سال جنوری میں شروع کردی جائیں گی، انہوں نے اتوار کے روز ڈھاکا میں اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں بنگلا دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ایک خیرسگالی ملاقات کے دوران اس امید کا اظہار کیا۔ اس ملاقات کے دوران فریقین نے تجارت، سرمایہ کاری اور ہوا بازی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دے کر دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ ٔ خیال کیا۔ پاکستانی ہائی کمشنر نے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان دوطرفہ تجارت میں 20 فی صد اضافہ ہوا ہے، جبکہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریاں نئی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں سرگرم ہیں۔ بنگلا دیش میں حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں ملکوں کے مابین دوطرفہ تعلقات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط اور مستحکم ہو رہے ہیں۔ کراچی، ڈھاکا براہ راست پرواز کا آغاز ایک مثبت اور اہم پیش رفت ہے، جو مسافروں، تاجروں، صنعت کاروں اور سیاحوں کو سہولت فراہم کرے گا، رواں برس فروری میں بنگلا دیش نے پاکستان کی نجی ائرلائن فلائی جناح کو کراچی اور ڈھاکا کے درمیان براہ راست پروازیں چلانے کی اجازت دے دی تھی۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک دہائی کے بعد پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان براہ راست پروازیں شروع ہو جائیں گی۔ پاکستان کی قومی ائرلائن پی آئی اے نے آخری مرتبہ 2015 تک ڈھاکا کے لیے پروازیں چلائی تھیں۔ واضح رہے کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے مابین براہ راست پرواز نہ ہونے کی وجہ سے مسافروں کو ٹرانزٹ سفر کرنا پڑتا تھا، جس سے وقت بھی زیادہ لگتا تھا اور سفری اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا تھا۔ براہِ راست پرواز کے آغاز سے نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کے درمیان حائل خلیج دور ہوگی، بلکہ اس اقدام سے تعلیمی، تجارتی، ثقافتی اور سیاحتی روابط میں بھی اضافہ ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: براہ راست پرواز بنگلا دیش کے کے درمیان
پڑھیں:
کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
مزید پڑھیںکیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی
2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔