کراچی، مددگار 15 پولیس کو ایک سال میں 2 لاکھ 59 ہزار سے زائد کالز موصول
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
کراچی پولیس کے مدد گار 15 یونٹ نے سال 2025 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی
اس حوالے ترجمان مدد گار 15 پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عوام کی فوری مدد اور جرائم کے خلاف مؤثر کاروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔
سال کے دوران 2 لاکھ 59 ہزار 979 کالز پر فوری ایکشن لیتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں عمل میں لائی گئیں۔
مدد گار 15 پولیس نے رواں سال کے دوران اسٹریٹ کرمنلز، ڈاکوؤں اور اغوا کاروں سمیت 89 ملزمان کو گرفتار کیا جن کے قبضے سے 35 پستول، 52 موٹر سائیکلیں اور 29 گاڑیاں بھی برآمد کی گئیں۔
مزید پڑھیںکراچی؛ رواں برس ٹریفک حادثات میں خواتین، بچوں سمیت 847 افراد جان کی بازی ہار گئے
ڈی آئی جی سیکیورٹی ڈاکٹر مقصود احمد نے مدد گار 15 پولیس کے افسران و اہلکاروں کو ان کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریسکیو کالز پر بروقت ردعمل اور مصیبت زدہ شہریوں کی فوری مدد کرنا قابل تعریف ہے۔
انہوں ںے کہا کہ مجموعی طور پر سال 2025 میں مدد گار 15 پولیس کی کارکردگی ان کی لگن ، پیشہ ورانہ صلاحیت اور عوام دوست طرز عمل کی عکاسی کرتی ہے جو ایک محفوظ ، مزید مؤثر اور عوام دوست پر مبنی پولیسنگ نظام کی تشکیل کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔
ترجمان کے مطابق مددگار15 ملاپ یونٹ کی جانب سے شہری خدمت میں قابل قدر انسانی کردار کی بدولت 135 لاپتہ بچوں کو ان کے اہلخانہ سے ملوایا گیا۔ رواں سال کے دوران مدد گار 15 کال سینٹر کو مجموعی طور پر 24 لاکھ 16 ہزار 870 کالز موصول ہوئیں جس میں سے ایک لاکھ 90 ہزار 900 کالز پرینگ یا بوگس تھیں جبکہ 89 ہزار 640 معلوماتی کالز ثابت ہوئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مدد گار 15 پولیس
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک