پی ایس ایل میں 85 کروڑ سینٹرل پول گارنٹی کی پیشکش صرف2 نئی ٹیموں تک محدود ہے، موجودہ فرنچائز کے معاہدے میں ایسی کوئی شق شامل نہیں،ان سے صرف ایک اضافی صفحے پر دستخط کروائے گئے، بقیہ کنٹریکٹ پرانا ہی تھا۔

تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے ساتویں اور آٹھویں ٹیموں کو پی ایس ایل 11 سے اگلے 5ایڈیشنز تک 85 کروڑ روپے دینے کی یقین دہانی کرائی ہے،اسے کم از کم سینٹرل پول انکم گارنٹی کا نام دیا گیا،اس دوران اگر کسی بھی ٹورنامنٹ میں شیئر اس کم از کم ضمانتی رقم سے کم ہو تو بورڈ کمی کو پورا کرے گا، بطور متبادل دونوں نئی فرنچائزز کو اگلے ٹورنامنٹ کی فیس میں کمی والی رقم کی رعایت بھی مل سکتی ہے۔

 پرانی پانچوں ٹیمیں اس پیشکش سے محروم ہیں، ایک سے زائد ٹیم آفیشلز نے رابطے پر کہا کہ ہمیں ایسی کوئی آفر نہیں دی گئی، اگر گارنٹی مل جاتی تو اچھا رہتا لیکن اس سے ہمیں کوئی خاص فرق بھی نہیں پڑے گا، سینٹرل پول میں عمومی طور پر ہر ٹیم کا شیئر 85 کروڑ سے زائد ہی ہوتا ہے، البتہ نئے اونرز کو راغب کرنے کیلیے یہ اچھا فیصلہ کیا گیا، یہ تجویز ویلیوایشن کرنے والی غیرملکی کمپنی نے ہی دی تھی۔

 ذرائع نے بتایا کہ موجودہ 5 فرنچائز کو کوئی بڑا نیا معاہدہ پیش نہیں کیا گیا، ان سے صرف ایک اضافی صفحے پر دستخط کروائے گئے، باقی پرانا کنٹریکٹ ہی تھا، جس کے تحت بیشتر کمرشل کنٹریکٹس کا 95 فیصد حصہ ملتا ہے، تمام فرنچائزز کی جانب سے ادا شدہ فیس سینٹرل پول کا حصہ نہیں ہوتی،20 ویں ایڈیشن کے بعد فرنچائزز کے فیصد حصے کا تعین پی سی بی کرے گا۔

 یاد رہے ملتان سلطانز کی ٹیم کے معاملات 11 ویں ایڈیشن میں پی سی بی سنبھالے گا، بعد میں اس کی بھی نیلامی ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سینٹرل پول

پڑھیں:

موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔

 پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔

موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔

پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف