گرین کریسنٹ ٹرسٹ کی یتیم طلبہ کے اعزاز میں تقریب
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251230-02-8
کراچی (اسٹاف رپورٹر )گرین گریسنٹ ٹرسٹ تعلیم کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے ریاہے،جس کی نظیر نا ممکن ہے، سندھ کے قصبے محراب پور میں جی سی ٹی کے اسکولوں سے فارغ التحصیل نو طلبہ ڈاکٹر بن چکے ہیں اور اپنی مقامی برادریوں کو طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں ان خیالات کااظہار گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زاہد سعید نے جی سی ٹی کے سالانہ تفریحی گالاکی تقریب سے خطاب میں کیا ، ان کا کہنا تھا کہ مخیر حضرات کے تعاون سے سندھ کے پسماندہ علاقوں میں 173 فلاحی اسکولوں کا جال بچھادیا ہے گرین کریسنٹ ٹرسٹ (جی سی ٹی) نے اپنے فلاحی کاموں سے منسلک ایسے مخلص مخیر حضرات اور ڈونرز کو زبردست خراج تحسین پیش کرتی ہے جو بنا کسی ذاتی تشہیر کے سارا سال نہایت مخلصی اور فیاضی کے ساتھ عطیات فراہم کرتے ہیں تاکہ جی سی ٹی کے سندھ کے دور دراز اور پسماندہ مقامات پر موجود اسکولوں میں زیر تعلیم 2150 یتیم طالب علموں کی معیاری تعلیم اور کفالت کو ممکن بنایا جاسکے۔۔اس موقع پر جی سی ٹی کی رمضان 2026 فنڈ ریزنگ مہم کا بھی باضابطہ آغاز کیا گیا جس کا مقصد سندھ بھر میں ناخواندہ بچوں کے اسکولوں میں داخلے کی مہم کو تیز تر بنانے کے لیے 900 ملین روپے کے عطیات جمع کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جی سی ٹی
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔