پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں، پشاور ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ حکومت نے ورچوئل ایسٹس آرڈیننس 2025 متعارف کرایا ہے، آرڈیننس کے تحت لائسینسنگ اور ریگولیشن کے لئے لیگل فریم ورک تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے معاملات کو ریگولیٹ کیا گیا اور اس کے بعد یہ درخواست اب غیر موثر ہوگئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور ہائیکورٹ نے کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فاریکس کی غیر قانونی ٹریڈنگ کے خلاف دائر درخواست کو خارج کرتے ہوئے فیصلے میں لکھا ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل نے کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فاریکس کی غیر قانونی ٹریڈنگ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرنے کے بعد تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ حکومت نے ورچوئل ایسٹس آرڈیننس 2025 متعارف کرایا ہے، آرڈیننس کے تحت لائسینسنگ اور ریگولیشن کے لئے لیگل فریم ورک تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے معاملات کو ریگولیٹ کیا گیا اور اس کے بعد یہ درخواست اب غیر موثر ہوگئی ہے۔
فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ درخواست غیر موثر ہونے پر خارج کیا جاتا ہے۔ جسٹس کامران حیات نے فیصلے میں لکھا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں، اسٹیٹ بینک کے مراسلوں اور سرکلرز کے ذریعے مالی اداروں اور لوگوں کو صرف آگاہ کیا گیا ہے کہ اس قسم کی کرنسی کاروبار میں احتیاط کریں۔ پشاور ہائیکورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ اسٹیٹ بینک کے مراسلوں میں یہ ذکر نہیں ہے کہ کرپٹو کرنسی کا کاروبار جرم ہے، یا اس کے لئے کوئی سزا ہے، کرپٹو اور ڈیجیٹل فاریکس ٹریڈنگ کی ریگولیشن کا معاملہ پالیسی اور قانون سازی کا ہے اور یہ عدالتی اختیار میں نہیں آتا۔
ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ قانون سازی اور پابندی کا اختیار انتظامیہ اور مقننہ کے پاس ہے۔ فیصلے میں لکھا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق منی کرپٹو ٹریڈنگ سے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خدشات ہے، حکومت کی جانب سے ورچول ایسٹس آرڈیننس 2025 کے تحت ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا گیا ہے۔ تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فارکس کے لئے پالسی 2025 آئی ہے، اس سٹیج پر یہ درخواستیں غیر موثر ہوگئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پشاور ہائیکورٹ کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل کیا گیا کے لئے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔