WE News:
2026-07-24@03:28:17 GMT

یمن میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر اتحادی افواج کا سخت ردعمل

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت یافتہ اتحادی افواج کے سرکاری ترجمان  نے کہا ہے کہ گزشتہ ویک اینڈ پر الفجیرہ بندرگاہ سے آنے والے 2 بحری جہاز بغیر سرکاری اجازت المکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ اجازت اتحادی افواج کے مشترکہ کمانڈ ہیڈکوارٹر سے حاصل نہیں کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا یمن میں امن و استحکام کی کوششوں کی حمایت کا اعلان

ترجمان اتحادی افواج کے مطابق دونوں جہازوں کے عملے نے نگرانی اور تعاقب کے نظام بند رکھے اور یمن کے مشرقی صوبوں حضرموت اور المہرہ میں جنوبی عبوری کونسل کی حمایت کے لیے بڑی مقدار میں اسلحہ اور بکتر بند جنگی گاڑیاں اتاریں، جس کا مقصد کشیدگی کو ہوا دینا اور تنازع کو بڑھانا تھا۔

Coalition Joint Forces Conduct Limited Airstrike on Foreign Military Supplies at Mukalla Port

The official spokesperson of the Coalition, Major General Turki Al-Maliki, stated that on Saturday and Sunday, December 27–28, 2025, two vessels arrived from Fujairah Port to Mukalla… https://t.

co/SCSYLanwUw pic.twitter.com/DePO5d9I3e

— Ali Al-Sakani | علي السكني (@Alsakaniali) December 30, 2025

لیفٹیننٹ جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کی کوششوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2216/2015 کی بھی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے صدر کی باضابطہ درخواست پر، اور شہریوں کے تحفظ کے پیش نظر، اتحادی افواج نے آج صبح ایک محدود اور مخصوص فوجی کارروائی کی، جس میں المکلا بندرگاہ پر ان جہازوں سے اتارا گیا اسلحہ اور جنگی گاڑیاں نشانہ بنائی گئیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کی یمن کے جنوبی صوبوں میں عسکری نقل و حرکت پر تشویش، کشیدگی ختم کرنے پر زور

کارروائی سے قبل تمام شواہد کو مکمل طور پر دستاویزی شکل دی گئی اور آپریشن کو بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے عرفی اصولوں کے مطابق اس انداز میں انجام دیا گیا کہ کسی قسم کا ضمنی نقصان نہ ہو۔

ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اتحادی افواج حضرموت اور المہرہ میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی نافذ رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، اور کسی بھی ملک کی جانب سے یمنی قانونی حکومت اور اتحادی افواج کی ہم آہنگی کے بغیر کسی بھی یمنی فریق کو عسکری مدد کی فراہمی کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاکہ خطے میں امن واستحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور تنازع کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اتحادی افواج اقوام متحدہ الفجیرہ بندرگاہ المہرہ ترکی المالکی حضرموت صدارتی قیادت کونسل عبوری کونسل لیفٹیننٹ جنرل یمن

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اتحادی افواج اقوام متحدہ الفجیرہ بندرگاہ المہرہ ترکی المالکی حضرموت صدارتی قیادت کونسل عبوری کونسل لیفٹیننٹ جنرل اتحادی افواج

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل