Jasarat News:
2026-07-24@01:38:43 GMT

2025ء کے ایسے ٹیک تجربات، جنہوں نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سال 2025 ٹیکنالوجی کی دنیا میں محض نئی ایجادات کا سال ثابت نہیں ہوا بلکہ اس دوران ایسے انوکھے اور حیران کن تجربات بھی سامنے آئے جنہوں نے ماہرینِ ٹیکنالوجی کے ساتھ عام صارفین کو بھی حیرت میں مبتلا کر دیا۔

دنیا کے مختلف حصوں میں شوقیہ اور تجرباتی بنیادوں پر کیے جانے والے یہ تجربات سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئے اور بعض اوقات سنجیدہ سائنسی بحث کا سبب بھی بنے۔ ان واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ ٹیکنالوجی صرف لیبارٹریوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عام لوگوں کے تخیل اور تجربات کا بھی حصہ بن چکی ہے۔

بین الاقوامی ٹیک ویب سائٹس کے مطابق 2025 میں جاپان سے لے کر یورپ اور امریکا تک ایسے تجربات سامنے آئے جن میں ٹیکنالوجی کو فیشن، آرٹ اور روزمرہ زندگی کے ساتھ اس انداز میں جوڑا گیا کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔

جاپان میں ایسے اسپیکرز تیار کیے گئے جو کپڑوں کی شکل میں پہنے جا سکتے تھے۔ اگرچہ ان کی آواز کا معیار عام اسپیکرز سے مختلف نہ تھا، تاہم آرٹ اور ٹیکنالوجی کے امتزاج نے انہیں عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔

اسی طرح ایک اور حیران کن تجربے میں انتہائی محدود صلاحیت رکھنے والے ایل ای ڈی بلب پر مشہور گیم مائن کرافٹ چلانے میں کامیابی حاصل کی گئی، جس نے یہ سوال کھڑا کر دیا کہ ٹیکنالوجی کی اصل حدود کہاں تک ہیں۔

یورپ میں ایک منفرد بحث اس وقت شروع ہوئی جب یہ دعویٰ سامنے آیا کہ غیر ضروری ای میلز اور ڈیجیٹل ڈیٹا حذف کرنے سے ڈیٹا سینٹرز پر دباؤ کم ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پانی اور توانائی کی بچت ممکن ہے۔ اگرچہ یہ خیال بظاہر عجیب محسوس ہوا، مگر ماحولیاتی ماہرین نے اسے سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا۔

اسی دوران فیشن کی دنیا میں بھی ٹیکنالوجی کا انوکھا استعمال دیکھنے میں آیا، جہاں فائبر آپٹک کیبلز سے تیار کیا گیا ایک ایسا لباس منظرِ عام پر آیا جو انٹرنیٹ سے منسلک تھا اور محض ایک فنکارانہ اظہار کے طور پر پیش کیا گیا۔

ٹیکنالوجی کے شوقین طلبہ اور نوجوانوں نے بھی 2025 میں کئی حیران کن تجربات کیے۔ ایک طالب علم نے عام سی پی ڈی ایف فائل کے اندر مکمل لینکس آپریٹنگ سسٹم چلانے کا کارنامہ انجام دیا، جس نے دنیا بھر کے پروگرامرز کو حیران کر دیا۔

اسی سال ایک ڈومین تنازع بھی خبروں کی زینت بنا جب ایک شخص نے ایک مشہور برانڈ سے منسوب ویب ڈومین مہنگے داموں فروخت کرنے کی کوشش کی، مگر قانونی کارروائی کے بعد وہ ڈومین کمپنی کے حوالے کر دیا گیا۔

بڑی کمپنیوں کو بھی ٹیکنالوجی کے غیر متوقع پہلوؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک عالمی فاسٹ فوڈ چین کی ویب سائٹ میں تکنیکی خامی سامنے آئی جس کے باعث مفت آرڈرز دیے جا سکے، تاہم کمپنی نے فوری طور پر مسئلہ حل کر لیا۔ اسی طرح ایک تجربے میں الیکٹرک گاڑی کو عمارت کی چھت پر چلایا گیا، جس کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی اور گاڑیوں کی ٹیکنالوجی پر نئی بحث چھیڑ دی۔

مصنوعی ذہانت بھی 2025 میں حیرت انگیز خبروں کا مرکز بنی رہی۔ 2 اے آئی چیٹ بوٹس نے انسانوں کی روایتی زبان چھوڑ کر آپس میں ایک الگ انداز میں بات چیت شروع کر دی، جس پر ماہرین نے گہری تشویش اور دلچسپی کا اظہار کیا۔

اسی طرح ایسے روبوٹس اور اے آئی سسٹمز متعارف ہوئے جو انسانوں کے ردعمل، آوازوں اور حتیٰ کہ دیوار کے پار ہونے والی سرگرمیوں کا اندازہ لگانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ سائنسی میدان میں انسانی دماغی خلیات کو تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کرنے، ڈی این اے میں مکمل کتاب محفوظ کرنے اور حتیٰ کہ گھریلو پودوں کے وائی فائی سگنلز پر اثرات جیسے تجربات بھی سامنے آئے۔

ان تمام واقعات نے یہ واضح کر دیا کہ 2025 میں ٹیکنالوجی نہ صرف ترقی کر رہی تھی بلکہ حیران، چونکا دینے اور سوچنے پر مجبور کرنے والی شکل اختیار کر چکی تھی، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں مزید نمایاں ہونے کا امکان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹیکنالوجی کے کر دیا

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم