data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

طویل عرصے سے یہ تصور عام رہا ہے کہ اچھا کولیسٹرول، جسے ایچ ڈی ایل کہا جاتا ہے، دل اور مجموعی صحت کے لیے مفید ہوتا ہے، تاہم حالیہ سائنسی تحقیق نے اس تصور کو ایک نئے زاویے سے چیلنج کر دیا ہے۔

تازہ تحقیق کے مطابق مینوپاز کے بعد خواتین میں ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی زیادہ مقدار بعض حالات میں الزائمر جیسی خطرناک دماغی بیماری کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے، جس نے طبی ماہرین اور عام افراد دونوں کو چونکا دیا ہے۔

یہ تحقیق امریکا کی یونیورسٹی آف پٹسبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے انجام دی، جسے معتبر سائنسی جریدے جرنل آف کلینکل اینڈوکرینولوجی اینڈ میٹابولزم میں شائع کیا گیا۔

محققین کے مطابق اگرچہ ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کو عموماً صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے، لیکن عمر بڑھنے اور ہارمونل تبدیلیوں، خصوصاً مینوپاز کے بعد اس کے اثرات بدل سکتے ہیں۔ اس تحقیق میں واضح کیا گیا کہ اس مرحلے پر کولیسٹرول کی مقدار کے بجائے اس کا معیار زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مطالعے کے دوران ماہرین نے 503 خواتین کے خون کے نمونوں کا تفصیلی تجزیہ کیا اور کئی برس تک ان کی یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ وقت گزرنے کے ساتھ خواتین کے خون میں ایچ ڈی ایل کے ذرات کی ساخت اور افادیت میں تبدیلی آتی ہے۔ عمر کے ساتھ ایچ ڈی ایل کے بڑے ذرات کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا، تاہم یہ بڑے ذرات چھوٹے ذرات کے مقابلے میں کم مؤثر ثابت ہوئے، جس کا منفی اثر دماغی صحت پر پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایچ ڈی ایل کے ذرات نہ صرف سائز بلکہ کارکردگی میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن خواتین میں چھوٹے سائز کے ایچ ڈی ایل ذرات کی مقدار زیادہ تھی، خاص طور پر وہ جن میں فاسفولیپڈز جیسی صحت مند چکنائی کی سطح بہتر تھی، انہوں نے عمر بڑھنے کے باوجود یادداشت اور سوچنے سمجھنے کے ٹیسٹ میں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی۔ فاسفولیپڈز کو دماغی خلیات کی صحت اور مضبوطی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران 2000ء  سے 2016ء  تک خواتین کی ذہنی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا گیا، جس کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ صرف ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی زیادہ مقدار کو مکمل طور پر فائدہ مند قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ کولیسٹرول کس معیار کا ہے اور جسم میں کس طرح کام کر رہا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یادداشت میں کمی کو الزائمر کی ابتدائی علامات میں شمار کیا جاتا ہے، اس لیے یہ نتائج مستقبل میں خواتین کی صحت کے حوالے سے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے پروفیسر اور اس تحقیقی منصوبے کے سربراہ ڈاکٹر سمر کے مطابق خوش آئند بات یہ ہے کہ ایچ ڈی ایل کے ذرات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اختیار کی جا سکتی ہے۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی، متوازن غذا، صحت مند وزن برقرار رکھنا اور سگریٹ نوشی سے پرہیز جیسی عادات ایچ ڈی ایل کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق جاتا ہے کے لیے

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی