الزائمر اور کولیسٹرول کا حیران کن تعلق: سائنسدانوں کا اہم انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
طویل عرصے سے یہ تصور عام رہا ہے کہ اچھا کولیسٹرول، جسے ایچ ڈی ایل کہا جاتا ہے، دل اور مجموعی صحت کے لیے مفید ہوتا ہے، تاہم حالیہ سائنسی تحقیق نے اس تصور کو ایک نئے زاویے سے چیلنج کر دیا ہے۔
تازہ تحقیق کے مطابق مینوپاز کے بعد خواتین میں ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی زیادہ مقدار بعض حالات میں الزائمر جیسی خطرناک دماغی بیماری کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے، جس نے طبی ماہرین اور عام افراد دونوں کو چونکا دیا ہے۔
یہ تحقیق امریکا کی یونیورسٹی آف پٹسبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے انجام دی، جسے معتبر سائنسی جریدے جرنل آف کلینکل اینڈوکرینولوجی اینڈ میٹابولزم میں شائع کیا گیا۔
محققین کے مطابق اگرچہ ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کو عموماً صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے، لیکن عمر بڑھنے اور ہارمونل تبدیلیوں، خصوصاً مینوپاز کے بعد اس کے اثرات بدل سکتے ہیں۔ اس تحقیق میں واضح کیا گیا کہ اس مرحلے پر کولیسٹرول کی مقدار کے بجائے اس کا معیار زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مطالعے کے دوران ماہرین نے 503 خواتین کے خون کے نمونوں کا تفصیلی تجزیہ کیا اور کئی برس تک ان کی یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ وقت گزرنے کے ساتھ خواتین کے خون میں ایچ ڈی ایل کے ذرات کی ساخت اور افادیت میں تبدیلی آتی ہے۔ عمر کے ساتھ ایچ ڈی ایل کے بڑے ذرات کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا، تاہم یہ بڑے ذرات چھوٹے ذرات کے مقابلے میں کم مؤثر ثابت ہوئے، جس کا منفی اثر دماغی صحت پر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایچ ڈی ایل کے ذرات نہ صرف سائز بلکہ کارکردگی میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن خواتین میں چھوٹے سائز کے ایچ ڈی ایل ذرات کی مقدار زیادہ تھی، خاص طور پر وہ جن میں فاسفولیپڈز جیسی صحت مند چکنائی کی سطح بہتر تھی، انہوں نے عمر بڑھنے کے باوجود یادداشت اور سوچنے سمجھنے کے ٹیسٹ میں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی۔ فاسفولیپڈز کو دماغی خلیات کی صحت اور مضبوطی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
تحقیق کے دوران 2000ء سے 2016ء تک خواتین کی ذہنی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا گیا، جس کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ صرف ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی زیادہ مقدار کو مکمل طور پر فائدہ مند قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ کولیسٹرول کس معیار کا ہے اور جسم میں کس طرح کام کر رہا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ یادداشت میں کمی کو الزائمر کی ابتدائی علامات میں شمار کیا جاتا ہے، اس لیے یہ نتائج مستقبل میں خواتین کی صحت کے حوالے سے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے پروفیسر اور اس تحقیقی منصوبے کے سربراہ ڈاکٹر سمر کے مطابق خوش آئند بات یہ ہے کہ ایچ ڈی ایل کے ذرات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اختیار کی جا سکتی ہے۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی، متوازن غذا، صحت مند وزن برقرار رکھنا اور سگریٹ نوشی سے پرہیز جیسی عادات ایچ ڈی ایل کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق جاتا ہے کے لیے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔