قابض حکام نے شمالی کشمیر میں وی پی این کے استعمال پر پابندی عائد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کپواڑہ نے مبہم "سکیورٹی خدشات” اور مبینہ مشتبہ آن لائن سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ163 کے تحت ضلع بھر میں تمام وی پی این سروسز کو دو ماہ کے لیے ممنوع قرار دینے کا حکم دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض حکام معلومات تک رسائی کو روکنے کیلئے شمالی کشمیر میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کپواڑہ نے مبہم "سکیورٹی خدشات” اور مبینہ مشتبہ آن لائن سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ163 کے تحت ضلع بھر میں تمام وی پی این سروسز کو دو ماہ کے لیے ممنوع قرار دینے کا حکم دیا ہے۔ ہدایت نامے کے تحت تمام افراد، اداروں، سائبر کیفے اور انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز کو وی پی این سروسز استعمال کرنے یا فراہم کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے۔ قابض انتظامیہ نے تسلیم کیا کہ یہ حکم عوام کو پیشگی اطلاع کے بغیر یک طرفہ طور پر جاری کیا گیا ہے۔
سول سوسائٹی کے اراکین اور ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں نے بھارتی قابض انتظامیہ کے اس اقدام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے مقبوضہ علاقے میں اظہار رائے کی آزادی، آن لائن پرائیویسی اور معلومات تک رسائی پر قدغن کی ایک اور کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافی، طلبا، پروفیشنلز اور عام شہری تعلیمی وسائل تک رسائی اور محفوظ طریقے سے بات چیت کے لیے وی پی این کا استعمال کرتے ہیں جنہیں پہلے ہی قابض انتظامیہ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ کی بندش اور نگرانی کا سامنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔