یمن کے امن کے لیے مذاکرات ہی واحد حل ہیں، سعودی وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں ماہ کی 25 تاریخ کو جاری سابقہ بیان کے تسلسل میں، مملکتِ سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر حضرموت اور المہرہ میں جنوبی عبوری کونسل کی جانب سے کیے گئے کشیدگی پر مبنی اقدامات کے خاتمے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں۔
بیان میں یمنی صدارتی قیادت کونسل اور یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں الفجیرہ بندرگاہ سے بغیر اجازت اسلحہ اور بھاری گاڑیوں سے لدی کشتیوں کے المکلا پہنچنے کا ذکر کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یمن میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر اتحادی افواج کا سخت ردعمل
وزارت خارجہ کے مطابق مملکتِ سعودی عرب کو اس امر پر افسوس ہے کہ برادر ملک متحدہ عرب امارات نے جنوبی عبوری کونسل پر دباؤ ڈال کر اس کی افواج کو حضرموت اور المہرہ میں مملکت کی جنوبی سرحدوں کے قریب عسکری کارروائیوں پر آمادہ کیا، جو سعودی قومی سلامتی، جمہوریہ یمن کے امن واستحکام اور پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات نہ صرف غیر معمولی حد تک خطرناک ہیں بلکہ یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کے لیے قائم عرب اتحاد کے بنیادی اصولوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتے اور نہ ہی یمن کے امن واستحکام کی کوششوں کو تقویت دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا یمن میں امن و استحکام کی کوششوں کی حمایت کا اعلان
مملکت نے واضح کیا کہ اس کی قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے یا اس سے چھیڑ چھاڑ کو سرخ لکیر تصور کیا جائے گا، اور اس ضمن میں سعودی عرب ہر وہ اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا جو اس خطرے کے سد باب کے لیے ضروری ہو۔
بیان میں اس امر کا اعادہ بھی کیا گیا کہ سعودی یمن کے امن، استحکام اور خودمختاری کی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور یمنی صدارتی قیادت کونسل کے صدر اور ان کی حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کی یمن کے جنوبی صوبوں میں عسکری نقل و حرکت پر تشویش، کشیدگی ختم کرنے پر زور
سعودی عرب نے ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا کہ جنوبی مسئلہ ایک منصفانہ مسئلہ ہے، جس کے تاریخی اور سماجی پہلو ہیں، اور اس کا واحد حل جامع سیاسی عمل کے تحت مذاکرات کی میز پر ممکن ہے، جس میں جنوبی عبوری کونسل سمیت تمام یمنی فریق شریک ہوں گے۔
وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متحدہ عرب امارات یمن کی حکومت کے مطالبے کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر اپنی فوجی افواج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت فراہم کرنے کا عمل فوری طور پر بند کرے۔
سعودی عرب نے امید ظاہر کی کہ دانش مندی، اخوت، حسنِ ہمسائیگی اور خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو ترجیح دی جائے گی، اور متحدہ عرب امارات ایسے اقدامات کرے گا جو دونوں برادر ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے تحفظ اور خطے کے امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کا باعث بنیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
المہرہ حضر موت سعودی عرب عبوری کونسل عرب اتحاد متحدہ عرب امارات وزارت خارجہ یمن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: المہرہ حضر موت عبوری کونسل عرب اتحاد متحدہ عرب امارات متحدہ عرب امارات عبوری کونسل یمن کے امن کے لیے
پڑھیں:
اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم ایس سی او وزرائے خارجہ کے غیر رسمی عشائیے میں شرکت کریں گے اور رکن ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان کے شہر چولپون آتا پہنچ گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق چولپون آتا پہنچنے پر کرغزستان کے نائب وزیر خارجہ کیرات تورسنکولوف نے نائب وزیراعظم کا استقبال کیا۔ اس موقع پر کرغزستان میں پاکستان کے سفیر التمش وزیر اور ایس سی او کے لیے قومی رابطہ کار ڈاکٹر محمد فیصل بھی موجود تھے۔ ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم ایس سی او وزرائے خارجہ کے غیر رسمی عشائیے میں شرکت کریں گے اور رکن ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ملاقاتوں میں کل ہونے والے ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے ایجنڈے پر بھی بات چیت کی جائے گی۔