عامر خان نے مجھے دھوکہ دے کر فلم ’تارے زمین پر‘ میں مرکزی کردار حاصل کیا، اکشے کھنہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
فلم ’تارے زمین پر‘ کو بالی ووڈ کی یادگار فلموں میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں عامر خان مرکزی کردار کے ساتھ پروڈکشن اور ہدایتکاری بھی کی۔
تاہم یہ بات کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ اس فلم کا مرکزی کردار ابتداء میں عامر خان کے لیے نہیں بلکہ اداکار اکشے کھنہ کے لیے لکھا گیا تھا۔
ایک انٹرویو میں اکشے کھنہ نے اس دلچسپ واقعے کا انکشاف کیا۔
مڈ ڈے انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکشے کھنہ نے مزاحیہ انداز میں بتایا کہ فلم کے مصنف امول گپتے انہیں ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے، اس لیے انہوں نے عامر خان سے درخواست کی کہ وہ اکشے کو فون کر کے اسکرپٹ سننے کے لیے بلائیں۔
اکشے کھنہ نے کہا کہ چونکہ عامر خان اور میں اس سے قبل ’دل چاہتا ہے‘ میں ایک ساتھ کام کر چکے تھے، اس لیے امول گپتے نے عامر سے مدد مانگی تھی۔
مزید پڑھیںدھرندھر کی شاندار کامیابی؛ اکشے کھنہ ایک بڑے قانونی تنازع میں پھنس گئے
عامر خان نے جواب دیا کہ وہ اسکرپٹ سنے بغیر اس کی سفارش نہیں کریں گے۔ امول گپتے نے کہانی عامر خان کو سنائی، جو انہیں اس قدر پسند آئی کہ انہوں نے خود ہی فلم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
بعد میں عامر خان نے اکشے کھنہ کو پورا قصہ سناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فلم خود کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر اکشے نے خندہ پیشانی سے ردعمل دیا۔
یاد رہے کہ عامر خان نے نہ صرف اس فلم میں مرکزی کردار ادا کیا بلکہ اسی کے ساتھ ہدایت کاری میں بھی قدم رکھا۔
2007 میں ریلیز ہونے والی یہ فلم انتہائی کامیاب ثابت ہوئی اور کئی قومی اعزازات اپنے نام کیے۔
کام کے محاذ پر اکشے کھنہ جلد فلم دھرندھر 2 میں نظر آئیں گے، جو 19 مارچ 2026 کو ریلیز ہوگی جبکہ عامر خان اپنی پروڈکشن فلم ’ہیپی پٹیل: خطرناک جاسوس‘ میں مختصر کردار ادا کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اکشے کھنہ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :