اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد آصف کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے۔ ریفرنس سنئیر قانون دان کرنل (ر) انعام الرحیم نے دائر کیا ہے، جسٹس آصف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت شکایت دائر کرتے ہوئے ان کے خلاف انکوائری کرنے اور عہدے سے ہٹانے کی استدعا کی گئی ہے۔ ریفرنس میں اہم نوعیت کے سوالات اٹھائے گئے ہیں، ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ کروڑوں روپے مالیت کی وی ایٹ گاڑی، جس پر جعلی نمبر پلیٹ لگی ہوئی ہے، رات کا وقت ہے اور رات کو اس نے ایکسیڈنٹ کر دیا، پولیس نے احتیاطاً 322 کی دفعہ لگائی جبکہ 320 کی دفعہ لگنی چاہیے تھی، جس کی سزا دو سال ہے اگر صلح بھی ہوئی ہے تو اوپن کورٹ میں صلح ہونی چاہئے تھی، پولیس نے یہ بھی زحمت نہیں کی کہ گاڑی کو قبضے میں لیتی، بعد ازاں ایک آفیسر نے کسٹم کو لیٹر لکھا کہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ گاڑی کا نمبر جعلی ہے، ہم کنفرم کر چکے ہیں۔ ریکارڈ سے، جعلی نمبر پلیٹ کی گاڑی جو نان کسٹم پیڈ ہے، وہ جج صاحب کے بیٹے کے پاس کیسے آئی ؟ وہ جج صاحب کے گھر کیسے تھی؟ اور شایراہ دستور پر کیا کر رہی تھی؟ نہ ہی بیٹے کے پاس لائسنس تھا اور اگر وہ بغیر لائسنس گاڑی بھگا رہا تھا تو پھر تو 320 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے تھی، جس کی سزا دس سال ہے۔ آرٹیکل 209 کے تحت ریفرنس دائر کیا گیا کہ کس حد تک جج صاحب کی ذمہ داری بنتی تھی؟جبکہ سوشل میڈیا پر آ چکا ہے کہ ایک بچی تشویشناک حالت میں تھی اور ایک کی موقع پر ڈیتھ ہو چکی تھی،کیا زخمی بچی کو جج صاحب نے ریسکیو کیا،کیا وہ اسے ہسپتال لے گئے یا بچے کو بچانے کیلئے چکر میں پڑ گئے؟ سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھا گیا ہے کہ اسکی انکوائری کرتے ہوئے زمہ داری کا تعین کیا جائے کیونکہ کیا یہ جج صاحب انصاف کر سکیں گے؟ اسلام آباد میں پولیس کی کافی زیادہ کیسز ہیں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں تو یہ نام کسٹم پیڈ گاڑی یہاں کر رہی تھی؟کیا اسکا کسی نے نوٹس لیا؟ جج صاحب کو کسی نے گفٹ دیا، انہوں نے خود خریدی یا ان کے گھر کیسے آئی؟

ریفرنس دائر 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ریفرنس دائر اسلام آباد گیا ہے

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات