اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس آصف کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد آصف کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے۔ ریفرنس سنئیر قانون دان کرنل (ر) انعام الرحیم نے دائر کیا ہے، جسٹس آصف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت شکایت دائر کرتے ہوئے ان کے خلاف انکوائری کرنے اور عہدے سے ہٹانے کی استدعا کی گئی ہے۔ ریفرنس میں اہم نوعیت کے سوالات اٹھائے گئے ہیں، ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ کروڑوں روپے مالیت کی وی ایٹ گاڑی، جس پر جعلی نمبر پلیٹ لگی ہوئی ہے، رات کا وقت ہے اور رات کو اس نے ایکسیڈنٹ کر دیا، پولیس نے احتیاطاً 322 کی دفعہ لگائی جبکہ 320 کی دفعہ لگنی چاہیے تھی، جس کی سزا دو سال ہے اگر صلح بھی ہوئی ہے تو اوپن کورٹ میں صلح ہونی چاہئے تھی، پولیس نے یہ بھی زحمت نہیں کی کہ گاڑی کو قبضے میں لیتی، بعد ازاں ایک آفیسر نے کسٹم کو لیٹر لکھا کہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ گاڑی کا نمبر جعلی ہے، ہم کنفرم کر چکے ہیں۔ ریکارڈ سے، جعلی نمبر پلیٹ کی گاڑی جو نان کسٹم پیڈ ہے، وہ جج صاحب کے بیٹے کے پاس کیسے آئی ؟ وہ جج صاحب کے گھر کیسے تھی؟ اور شایراہ دستور پر کیا کر رہی تھی؟ نہ ہی بیٹے کے پاس لائسنس تھا اور اگر وہ بغیر لائسنس گاڑی بھگا رہا تھا تو پھر تو 320 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے تھی، جس کی سزا دس سال ہے۔ آرٹیکل 209 کے تحت ریفرنس دائر کیا گیا کہ کس حد تک جج صاحب کی ذمہ داری بنتی تھی؟جبکہ سوشل میڈیا پر آ چکا ہے کہ ایک بچی تشویشناک حالت میں تھی اور ایک کی موقع پر ڈیتھ ہو چکی تھی،کیا زخمی بچی کو جج صاحب نے ریسکیو کیا،کیا وہ اسے ہسپتال لے گئے یا بچے کو بچانے کیلئے چکر میں پڑ گئے؟ سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھا گیا ہے کہ اسکی انکوائری کرتے ہوئے زمہ داری کا تعین کیا جائے کیونکہ کیا یہ جج صاحب انصاف کر سکیں گے؟ اسلام آباد میں پولیس کی کافی زیادہ کیسز ہیں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں تو یہ نام کسٹم پیڈ گاڑی یہاں کر رہی تھی؟کیا اسکا کسی نے نوٹس لیا؟ جج صاحب کو کسی نے گفٹ دیا، انہوں نے خود خریدی یا ان کے گھر کیسے آئی؟
ریفرنس دائر
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ریفرنس دائر اسلام آباد گیا ہے
پڑھیں:
دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان کی بیٹنگ لائن(bating line colapse) 232 رنز کا تعاقب کرتے ہوئے لڑکھڑا گئی۔ پاکستان نے 27 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 119 رنز بنا لیے ہیں۔
اس سے قبل لاہور میں جاری میچ میں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔
آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔