صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی اجلاس‘ ترقیاتی سکیموں کیلئے 2 ارب 50 کروڑ روپے منظور
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
لاہور (کامرس رپورٹر)پنجاب پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نے مالی سال 2025ئ-26ءکے صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے 55 ویں اجلاس میں مختلف سیکٹرز کی ترقیاتی سکیموں کے لئے 2 ارب 50 کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ بورڈ ڈاکٹر نعیم رو ف نے کی۔ چولستان میں پختہ سڑکوں کی بحالی، توسیع، بہتری اور تعمیر کے لیے 2 ارب 50 کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی اجلاس میں 17 منظور شدہ سکیموں کے تحت 34 ایمرجنسی گاڑیوں کی خریداری اور 323 ایچ آر پوسٹس کے قیام کے لیے پوزیشن پیپر کی منظوری، پنجاب ٹورزم فورس کے قیام کے لیے گاڑیوں کی خریداری سے متعلق پوزیشن پیپر کی منظوری، جھنگ میں ڈیٹ پام ریسرچ سب سٹیشن کی اپ گریڈیشن اور پپیتا کی ورائٹل بہتری، مینجمنٹ اور پپیتا لیف کرل وائرس کے منصوبے کے لیے گاڑی کی منظوری سے متعلق پوزیشن پیپر کی کلیئرنس بھی دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
مزید :